’چار دھماکوں کی کوشش کی گئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن پولیس کے سربراہ نے بتایا ہے کہ جمعرات کو شہر کے ٹرانسپورٹ نظام پر چار حملوں کی کوشش کی گئی۔ سر ائین بلئیر نے کہا کہ انڈرگراؤنڈ کے تین سٹیشنوں اور ایک بس پر دھماکے کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان سٹیشنوں میں وارن سٹریٹ، اوول اور شپرڈز بُش شامل ہیں۔ ان سٹیشنوں کو خالی کرا دیا گیا ہے۔ لندن کے علاقے بیتھنل گرین میں چھبیس نمبر روٹ پر چلنے والی ایک بس کی اوپر کی منزل میں ایک دھماکہ ہوا۔ اس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دو ہفتے پہلے کے حملوں میں چھپن افراد مارے گئے تھے۔ پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان واقعات کے بعد دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔ ایک شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ صورتحال اب قابو میں ہے اور لوگ اپنی معمول کی زندگی پر جائیں۔ جمعرات کی سکیورٹی الرٹ کے دوران انڈرگراؤنڈ اور ٹرین کے کئی سٹیشنوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ وارن سٹریٹ کے سٹیشن سے باہر نکالے جانے والی ایک مسافر نے بتایا ٹرین میں سے کسی چیز کے جلنے کی بو آرہی تھی۔ اس کے بعد پولیس قریب میں واقع یونیورسٹی کالج ہسپتال میں بھی داخل ہوئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں وہاں موقع سے فرار ہونے والے ایک شخص کی تلاش تھی۔ پولیس نے بتایا ہے کہ شپرڈز بش کے سٹیشن پر ایک شخص اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی دھمکے دے کر وہاں سے بھاگ گیا تھا۔ لندن کے یہ حالیہ واقعات لندن بم حملوں کے ٹھیک دو ہفتے بعد ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||