BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 July, 2005, 17:27 GMT 22:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا پولیس کی گولی مارنے کیلیے چلے گی
سٹاک ویل
سٹاک ویل جہاں مسلح پولیس ایک شخص کے گوکیوں کا نشانہ بنایا
جنوبی لندن میں ایک مشتبہ شخص کی ہلاکت کے بعد مسلمانوں گروپوں نے پولیس کی نئی پالیسی ’شوٹ تو کِل‘ پر تشویش ظاہر کی ہے۔

مسلم کونسل آف برطانیہ، ایم سی بی کا کہنا ہے کہ سٹاک ویل ٹیوب سٹیشن پر رونما ہونے والے واقعے کے بعد سے انہیں پریشان لوگوں کے ٹیلی فون آ رہے ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس خصوصی آپریشنز کے سابق کمانڈر رائے رام کا کہنا ہے کہ ممکنہ خود کش حملہ آوروں کے بارے میں ’شوٹ ٹو کِل‘ کی پالیسی حال ہی بنائی گئی ہے۔

دہشت گردی کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ گولی پولیس نے چلائی تھی نہ کہ سپیشل فورس نے، اور یہ برطانوی پولیس میں ’ایک بہت بڑی تبدیلی‘ ہے۔

کنگ کالج لندن میں ڈیفنس سٹڈیز کے پروفیسر، پروفیسر مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ جنوبی لندن میں جن افسروں نے کارروائی کی ہے وہ لگتا نہیں کہ پولیس کے ہونگے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وہ سادہ کپڑوں میں رہنے والے سپیشل فورس کے ہو سکتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’جس طرح اسے گولیاں ماری گئی ہیں اس سے اس کے بارے میں اور اس بارے میں کہ حکام، جو بھی وہ ہونگے، اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس طرح مارے جانے سے اس بات کا قوی اظہار ہوتا ہے کہ حکام میں سے کوئی اس شبہ پر یقین رکھتا تھا کہ اس کے پاس دھماکہ خیز مادہ ہے‘۔

News image
کچھ علاقوں میں جمعہ کے واقعات کی خبروں کے بعد ویرانی سی چھا گئی


پروفیسر مائیکل کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ یہ بھی سمجھتے ہوں کہ آپ سے غلطی بھی ہو سکتی ہے اور یہ کہ آپ گرفتار بھی کرسکتے ہیں تو آپ کسی کو پانچ گولیاں نہیں مارتے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس طرح کی کارروائیوں کی تربیت نہیں دی جاتی۔

ان کا کہنا ہے کہ’یہاں تک کہ سپیشل برانچ اور سکاٹ لینڈ یارڈ کے مسلح یونٹ، ایس او نائینٹین کو بھی۔ اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ کارروائی کرنے والے سپیشل فورس کے یا اس کے کسی حصے سے تعلق رکھتے تھے‘۔

مسٹر رام کا کہنا ہے کہ ’مشتبہ خود کش حملہ آور سے نمٹتے ہوئے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اس نے اگر اپنے جسم سے دھماکہ خیز مادہ باندھا ہو ہے تو وہ پھٹ سکتا ہے‘۔

’اس لیے ایسے حملہ آور سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ خود کو بچاتے ہوئے اس کے سر کا نشانہ لیا جائے‘۔

حکومت کے سابق انٹیلیجنس تجزیہ کار بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ ’زندگی کے لیے فوری خطرہ‘ محسوس ہونے والے سے نمٹنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔

لیکن ایم سی بی کا کہنا ہے کہ اس پولیس اس بات کی وضاحت کرے کہ ’یہ کیوں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والا بظاہر ایشیائی دکھائی دیتا تھا‘۔

کونسل کے ترجمان عنایت بنگلہ والا کا کہنا ہے کہ آج صبح ان کی جتنے لوگوں سے بھی بات ہوئی ’ گھبرائے ہوئے اور پریشان‘ لگتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی ابھی انہیں ایک فون کال آئی جس میں پوچھا گیا کہ کیا ہم رک سیک لے کر باہر جائیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا سب لوگ ’شوٹ ٹو کِل‘ پالیسی کے بارے میں پریشان ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد