BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 July, 2005, 22:00 GMT 03:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دھماکوں کا مقصد مزید ہلاکتیں تھا‘
لندن
دھماکے جمعرات کے روز ساڑھے بارہ بجے کے قریب ہوئے۔
لندن میں پولیس چیف سر ائین بلئیر کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز ہونے والے بم دھماکوں کا مقصد لوگوں کو ہلاک کرنا تھا۔

تاہم لندن پولیس چیف نے کہا کہ دھماکوں کے مقام پر موجود ثبوت معاملے کی تفتیش کرنے میں میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں اور یہ کہ ’دہشت گرد اپنے منصوبوں میں ناکام ہوگئے ہیں۔‘

جمعرات کے روز ہونے والے ان دھماکوں کے بارے میں خیال ہے کہ اس میں دھماکہ خیز مواد مکمل طور پر نہیں پھٹ سکا۔

اس سے پہلے دوپہر کے وقت دی جانے والی ایک بریفنگ میں لندن پولیس کے سربراہ نے بتایا تھا کہ شہر کے ٹرانسپورٹ نظام پر چار حملوں کی کوشش کی گئی۔

سر ائین بلئیر نے کہا کہ انڈرگراؤنڈ کے تین سٹیشنوں اور ایک بس پر دھماکے کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان سٹیشنوں میں وارن سٹریٹ، اوول اور شپرڈز بُش شامل ہیں۔ ان سٹیشنوں کو خالی کرا دیا گیا ہے۔

لندن کے علاقے بیتھنل گرین میں چھبیس نمبر روٹ پر چلنے والی ایک بس کی اوپر کی منزل میں ایک دھماکہ ہوا۔ اس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
لندن پولیس کے سربراہ نے بتایا ہے کہ ان واقعات میں دو ہفتے پہلے کے لندن بم حملوں میں استعمال ہونے والے بم سے چھوٹے بم استعمال ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان بموں کا دھماکہ نہیں کیا جا سکا۔

دو ہفتے پہلے کے حملوں میں چھپن افراد مارے گئے تھے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان واقعات کے بعد دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔

ایک شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

پولیس کے سربراہ سر ایئن بلئیر
پولیس کے سربراہ سر ایئن بلئیر

پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ صورتحال اب قابو میں ہے اور لوگ اپنی معمول کی زندگی پر جائیں۔

جمعرات کی سکیورٹی الرٹ کے دوران انڈرگراؤنڈ اور ٹرین کے کئی سٹیشنوں کو بند کر دیا گیا تھا۔

وارن سٹریٹ کے سٹیشن سے باہر نکالے جانے والی ایک مسافر نے بتایا ٹرین میں سے کسی چیز کے جلنے کی بو آرہی تھی۔

اس کے بعد پولیس قریب میں واقع یونیورسٹی کالج ہسپتال میں بھی داخل ہوئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں وہاں موقع سے فرار ہونے والے ایک شخص کی تلاش تھی۔

پولیس نے بتایا ہے کہ شپرڈز بش کے سٹیشن پر ایک شخص اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی دھمکے دے کر وہاں سے بھاگ گیا تھا۔

لندن کے یہ حالیہ واقعات لندن بم حملوں کے ٹھیک دو ہفتے بعد ہوئے ہیں۔

لندن پولیس چیف سر ائین بلئیر نے بتایا ہے کہ ان دھماکوں میں ، جو تقریباً ایک ہی وقت پر ہوئے تھے، کو ئی زخمی نہیں ہوا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ایک ہسپتال میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جس کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ ان دھماکوں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد