 |  شیپرڈ بش سٹیشن پر پولیس نے بتایا کہ ایک شخص اپنے آپ کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دینے کے بعد وہاں سے بھاگ گیا۔ |
لندن میں چھوٹے دھماکوں کی اطلاع کے بعد تین انڈرگراونڈ سٹیشنوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ابھی تک ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع کی تصدیق ہوئی ہے۔ پولیس نے وارن سٹریٹ، اوول ، اور شیپرڈز بش کے سیٹشنوں کو جانے والے تمام راستے بند کر دیئے ہیں۔ لندن پولیس کے سربراہ سر این بلیئر نے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چار دھماکے ہوئے ہیں یا شاید چار دھماکے کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کی شدت سات جولائی کے بم دھماکوں سے کافی کم ہے۔ متاثر ہونے والوں کی تعداد کافی کم بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس صورتِ حال سے نمٹ رہی ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ فی الوقت وہ جہاں ہیں وہیں قیام کریں۔ پولیس کے سربراہ نے جمعرات کو ہونے والے ان چار دھماکوں کو ’کافی سنگین‘ قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہیکنی کے قریب چلنے والی ڈبل ڈیکر بس کے اوپر والے حصے پر دھماکے کی وجہ سے کھڑکیاں ٹوٹ گئیں ہیں۔کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ لندن پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات کو بڑا تصور نہیں کیا جا رہا ہے۔ شیپرڈ بش سٹیشن پر پولیس نے بتایا کہ ایک شخص اپنے آپ کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دینے کے بعد وہاں سے بھاگ گیا۔
اگر آپ یا آپ کے کوئی جاننے والے لندن کے ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں یہ واقعات پیش آئے ہیں اور آپ کے پاس کوئی معلومات یا موبائل تصویر ہو تو ہمیں میل کیجیے۔urduonline@bbc.co.uk آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں
ابو ہتاش، لندن، برطانیہ: میں ذاتی طور پر ان واقعات سے متاثر نہیں ہو ہوں مگر مجھے پولیس سربراہ سر ایین بلئیر کی یہ بات اچھی نہیں لگی کہ لندن میں رہنے والوں کو ٹرینوں اور بسوں پر واپس لوٹ جانا چاہیئے۔ کیا وہ خود ٹرینوں یا بسوں پر سفر کرتے ہیں؟ ایک برطانوی مسلمان کی حیثیت سے میں انتہا پسند مسلمانوں سے بہت تنگ آ چکا ہوں۔ مرں دس برس پہلے عراق سے یہاں آیا تھا اور میں کبھی واپس نہیں جاؤں گا۔ میں عراق پر حملے کا حامی نہیں ہوں، مگر یہ نفرت اس سے بہت پہلے کی ہے۔ نظام دوراست، لندن، برطانیہ: مجھے آج صبح کام پر پہنچنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لگ گیا کیونکہ بظاہر شپرڈس بش میں سکیورٹی الرٹ تھا۔ کیا اس سکیورٹی الرٹ کا ان واقعات سے کوئی تعلق تھا؟ اظفر رشید، لندن، برطانیہ: میرا دفتر وارن سٹریت سٹیشن کے بہت قریب ہے۔ جب میں لنچ کرکے لوٹا تو میں ہر طرف پولیس کی سائرنیں سنائی دے رہی تھیں۔ پولیس نے علاقے کو پوری طرح گھیر لیا ہے۔ انہوں نے ہمیں عمارت کے اندر رہنے اور کھڑکیاں بند کرنے کی صلاح دی ہے۔ سٹیو رابرٹس، لندن، برطانیہ: ان حادثوں میں اب تک ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ لندن میں رہنے والوں کو اب اس قسم کے واقعات کی عادت ڈالنی پڑے گی۔ ہم بس ایک ہی کام کر سکتے ہیں، وہ یہ کہ امن پسند مسلمان اکثریت کے ساتھ مل کر ان سماج دشمن عناصر اور انتہا پسندوں کو تنہا کر دیں اور اپنی خارجہ پالیسی پر دوبارہ نطر ڈالیں، جس کی وجہ سے ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جلین، لندن، برطانیہ: میں ایک بجے کے قریب وارن سٹریٹ کے پاس لنچ کرنے گئے تھا۔ مجھے لگج کہ کچھ ہوا ہے کیونکہ وہاں پولیس بہت بڑی تعداد میں موجود تھی اور آسمان میں ہیلی کاپٹر گھومتے نظر آ رہے تھے۔ پرارتھنا بوراہ، لندن، برطانیہ: میں ایک طالب علم ہوں اور وارن سٹریٹ کے علاقے میں رہتا ہوں۔ اس واقعہ نے مجھے بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گیری مالکم، ایکٹن، لندن: میں اس وقت شیپرڈس بش پر موجود تھا جب وہاں کچھ ہلچل سی مچ گئی۔ میں ہسپتال سے وہاں پہنچا تھا اور سوچ رہا تھا کہ نہ جانے اتنی پولیس کیوں تعینات ہے اور ٹرینیں اتنی دیر سے کیوں چل رہی ہیں۔ میں نے کوئی دھواں نہیں دیکھا اور پولیس اور ٹیوب اہلکار کچھ خاص بتا نہیں رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے انہیں کچھ نہ کہنے کی ہدایت دی گئی ہو۔ ہم میں سے کئی بسوں پر سوار ہو گئے۔ خدا کرے کہ یہ بم نہ ہوں۔ رسل مڈلٹن، لندن: جس وقت یہ واقعات پیش آئےمیں بیکرلو لائن پر سفر کر رہا تھا۔ ٹرین کچھ دیر کے لیے میڈا ویل سٹیشن پر رکی، جس کے بعد ڈرائور نے ٹرین کو خالی کرنے کا اعلان کیا۔ سب سیڑھیوں سے اوپر بھاگے اور اب ہم مزید اطلاعات کا انتظار کر رہے ہیں۔ |