’بمبار‘ کی غلط تصویر جاری ہوئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے چار میں سے تین بمباروں کے گزشتہ سال پاکستان جانے کے شواہد مشکوک ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پاسپورٹ پر چسپاں جس تصویر کو لیڈز سے تعلق رکھنے والے مبینہ خودکش بمبار حسیب حسین کی تصویر کے طور پر پیش کیا تھا وہ دراصل اُسی نام کے ایک اور سولہ سالہ برطانوی شہری کی تصویر تھی۔ ایف آئی اے نے یہ تصویر دیگر دو مبینہ بمباروں کی تصویروں کے ساتھ پیر کو جاری کی تھی۔ ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ حسیب حسین نے پندرہ جولائی 2004 کو برطانوی پاسپورٹ (نمبر 300514155) پر سعودی عرب کے شہر ریاض سے کراچی تک کا سفر کیا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے جس پاسپورٹ کو لندن کے مبینہ بمبار کے طور پر پیش کیا تھا وہ لندن کے شمال مغرب میں واقع قصبے ہائی وائی کومبے کے رہائشی حسیب حسین کا پاسپورٹ تھا۔
انہوں نے اے آر وائی کو بتایا کہ جب انہوں نے اپنی تصویر چینل فور نیوز پر دیکھی تو وہ ڈر گئے۔ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ لوگ مجھے دیکھیں اور کہیں کہ ارے تم تو مر چکے تھے یا کوئی یہ کہے کہ دیکھیں وہ لندن کا بمبار جارہا ہے۔‘ حسیب حسین کے والد نے اے آر وائی کو بتایا کہ ان کی فیملی سعودی عرب سے کراچی پہنچی تھی۔ انہوں نے برطانوی اور پاکستانی حکام سے کہا کہ وہ صورت حال کو واضح کریں۔ بی بی سی نیوز نے جب ایف آئی اے حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں اس مرحلے پر کچھ نہیں کہناچاہتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||