BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 July, 2005, 14:54 GMT 19:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کریک ڈاؤن‘ کے لیے کمیٹیاں

پولیس افسران
گزشتہ ہفتے صدر مشرف نے پولیس کے افسران کا ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کیا تھا
صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے’ کریک ڈاؤن‘ کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے سندھ اور خاص طور پر کراچی میں پولیس کی اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہیں۔

آئی جی پولیس سندھ، اسد جہانگیر کی تشکیل کردہ چار افسران پر مشتمل کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سندھ ہوں گے جب کہ اراکین میں ڈی آئی جی سی آئی ڈی، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ، اور اے آئی جیز آپریشنز سندھ شامل ہوں گے۔

مانیٹرنگ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ہفتے اپنی کارکردگی کی تفصیل آئی جی سندھ کو پیش کرے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مہم میں کراچی خاص اہمیت کا حامل ہے، جہاں مبینہ طور پر کئی دہشتگرد اور فرقہ وارانہ گروپ سرگرم ہیں۔ جبکہ کچھ مدرسوں کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب پابندی کے باوجود لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے پر کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما اور ملت اسلامیہ پاکستان کے سرپرست مولانا علی شیر حیدری سمیت تین مذہبی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

گلبہار پولیس کراچی نے مقدمے میں نامزد مولانا محمد عاصم کو گرفتار کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر مشرف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقدہ پولیس افسران کے اجلاس میں کالعدم تنظیموں، مذہبی منافرت پھیلانے، بغیر اجازت لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور منافرت اور تعصب آمیز لٹریچر کے خلاف ملک بھر میں کارروائی کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد