’کریک ڈاؤن‘ کے لیے کمیٹیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے’ کریک ڈاؤن‘ کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے سندھ اور خاص طور پر کراچی میں پولیس کی اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہیں۔ آئی جی پولیس سندھ، اسد جہانگیر کی تشکیل کردہ چار افسران پر مشتمل کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سندھ ہوں گے جب کہ اراکین میں ڈی آئی جی سی آئی ڈی، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ، اور اے آئی جیز آپریشنز سندھ شامل ہوں گے۔ مانیٹرنگ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ہفتے اپنی کارکردگی کی تفصیل آئی جی سندھ کو پیش کرے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مہم میں کراچی خاص اہمیت کا حامل ہے، جہاں مبینہ طور پر کئی دہشتگرد اور فرقہ وارانہ گروپ سرگرم ہیں۔ جبکہ کچھ مدرسوں کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پابندی کے باوجود لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے پر کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما اور ملت اسلامیہ پاکستان کے سرپرست مولانا علی شیر حیدری سمیت تین مذہبی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ گلبہار پولیس کراچی نے مقدمے میں نامزد مولانا محمد عاصم کو گرفتار کرلیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||