BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 July, 2005, 16:05 GMT 21:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی گرفتاری نہیں ہوئی: شیرپاؤ

آفتاب احمد شیر پاؤ
پاکستانی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ لندن بم دھماکوں کی تحقیقات کے سلسلے میں برطانیوی حکومت سے بھرپور تعاون کر رہی ہے لیکن اس سلسلے میں ابھی ملک میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کو پشاور میں ہفتے کی سہ پہر اپنی رہائش گاہ پر ایک خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بتایا کہ لندن حملوں کے سلسلے میں فیصل آباد، ملتان یا ملک کے کسی دوسرے علاقے سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

’ہم جو کچھ ہماری ذمہ داری بنتی ہے اس کے مطابق برطانیوی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔ تاہم اس امداد کی نوعیت کے بارے میں کچھ زیادہ بتانا پسند نہیں کروں گا‘۔

انہوں نے گزشتہ مئی میں پشاور سے مشتبہ القاعدہ کے رکن اور برطانیوی باشندے ذیشان صدیقی کی گرفتاری اور لندن حملوں میں اس کے کسی کردار کے بارے میں تحقیقات کے بارے میں صرف اتنا بتایا کہ وہ جیل میں ہے اور اس سے پوچھ گچھ ہوئی ہے اور جب تک ضرورت ہوئی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا اس کا کوئی تعلق لندن حملوں سے تو وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا: ’میں کچھ نہیں کہہ سکتا‘۔

آفتاب شیرپاؤ نے برطانیوی حکومت کی جانب سے مشتبہ افراد کی فہرست دیے جانے، یا تحقیقات کے رخ کے بارے میں بھی بتانے سے گریز کیا۔

تقریبا ایک گھنٹے کے انٹرویو میں شیرپاؤ بظاہر ایسے شخص معلوم ہو رہے تھے جو جانتا بہت ہے لیکن بتانا کچھ نہیں چاہتا۔ اس کی وجہ دریافت کی تو ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر وہ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں وزیر داخلہ کی جانب سے مئی میں برطانیوی عام انتخابات سے قبل کسی ممکنہ حملے کو روکنے کے بارے میں پاکستان کی جانب سے برطانیہ کو معلومات دیے جانے کے بارے میں بھی انہوں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا کہ ضروری نہیں ان معلومات سے کوئی حملہ روکا گیا ہو لیکن اس سے برطانیوی حکومت کو فائدہ ضرور ہوا۔

بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وفاقی وزیر اندرون ملک مذہبی جماعتوں کے دباو کی وجہ سے لب کشائی سے پرہیز کر رہے تھے۔ دینی جماعتیں مشرف حکومت پر معربی ممالک کے مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام لگاتی رہتی ہیں۔ خدشہ ہے کہ برطانیوی حکومت سے امداد کی نوعیت کے اظہار سے ان کی حکومت کے لیے مزید مشکلات درپیش آسکتی ہیں۔

آفتاب شیرپاؤ نے پچھلے دنوں ہنگو سے دو افراد کی القاعدہ کے تعلق کے شبہ میں گرفتاری کی تصدیق کی البتہ کہا کہ ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

صدر پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں انتہا پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کے بارے میں شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ اس پر عمل درآمد کے لیے بدھ کو اسلام آباد میں ایک اجلاس میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کچھ عناصر اب بھی ملک میں جہاد اور کفر کے فتوی جاری کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف ثبوت ملنے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد