BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 July, 2005, 07:10 GMT 12:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن: حملہ آووروں کی تلاش جاری
لندن ٹرین
شیپرڈز بش پر کھڑی وہ ٹرین جس میں ناکام بم حملہ کیا گیا تھا
لندن میں بڑے پیمانے پر ان چار افراد کی تلاش جاری ہے جو لندن ٹیوب ٹرینوں اور ایک بس میں خود کش بم دھماکے کرنا چاہتے تھے۔

ماہرین کے مطابق جمعرات کو کیے گئے ناکام دھماکوں میں بھی اسی قسم کا مواد استعمال کیا گیا جس قسم کا سات جولائی کو کیے جانے والے دھماکوں میں کیا گیا تھا۔ استعمال کی جانے والی اشیاء کا وزن اور حجم بھی ایک جیسا تھا۔

جمعرات کو ہونے والے حملے 12:30 منٹ پر سینٹرل لندن میں وارن سٹریٹ سٹیشن، مغرب میں شیپرڈز بش سٹیشن، جنوب میں اوول اور مغربی لندن کے مقام شورڈچ میں کیے گئے۔

لندن کے علاقے شورڈچ میں چھبیس نمبر روٹ پر چلنے والی بس کی اوپر کی منزل میں ایک دھماکہ ہوا۔ اس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

لندن میں پولیس چیف سر ائین بلئیر کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز ہونے والے بم دھماکوں کا مقصد لوگوں کو ہلاک کرنا تھا۔

تاہم لندن پولیس چیف نے کہا کہ دھماکوں کے مقام پر موجود ثبوت معاملے کی تفتیش کرنے میں میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں اور یہ کہ ’دہشت گرد اپنے منصوبوں میں ناکام ہوگئے ہیں۔‘

خیال ہے کہ ان حملوں میں ڈیٹونیٹرز تو چل گئے لیکن رک سیکس (بستوں) میں موجود دھماکہ خیز مواد مکمل طور پر نہیں پھٹ سکا۔

چاروں جگہوں پر ناکام خودکش حملہ کرنے والے افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم لوگوں نے ان کے خاکے بتائے ہیں۔

وارن سٹریٹ
وارن سٹریٹ پہنچنے والی ٹرین پر ایک معمولی دھماکہ ہوا

کئی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آوور اس بات پر پریشان دکھائی دیتے تھے کہ ان کے بم کیوں نہیں پھٹے۔

دھماکوں کے بعد گرفتار کیے جانے والے کئی افراد کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کے قریب وائٹ ہال سے ایک شخص کو جبکہ ٹوٹنہیم کورٹ سے دوسرے شخص کو گرفتار کیا گیا۔ بعد میں دونوں کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی طرح وارن سٹریٹ کے قریب دو اشخاص کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

لند میں دو دو ہفتے پہلے بھی چار بم حملے ہوئے تھے جن میں اب تک چھپن افراد مارے جا چکے ہیں۔

وارن سٹریٹ کے سٹیشن سے باہر نکالے جانے والی ایک مسافر نے بتایا ٹرین میں سے کسی چیز کے جلنے کی بو آرہی تھی۔

اس کے بعد پولیس قریب میں واقع یونیورسٹی کالج ہسپتال میں بھی داخل ہوئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں وہاں موقع سے فرار ہونے والے ایک شخص کی تلاش تھی۔

پولیس نے بتایا ہے کہ شپرڈز بش کے سٹیشن پر ایک شخص اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی دھمکے دے کر وہاں سے بھاگ گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد