BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 July, 2005, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مبینہ بمباروں کی تصویریں جاری
مبینہ دہشت گرد
لندن پولیس نے ان مبینہ دہشت گردوں کی تصویریں جاری کی ہیں۔
لندن پولیس کمشنر نےکہا ہے کہ سٹاک ویل کے علاقے پولیس کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے لندن دھماکوں میں مطلوب ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

لندن پولیس کمشنر سر آئن بلیئر نے اسٹنٹ کمشنر اینڈی ہیمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران جمعرات کے روز وارن ، اوول، شیفرڈز بش سٹیشنوں اور ہیکنی جانے والی بس پر دہشت گردی کی کوشش کرنے والے مبینہ دہشت گردوں کی کلوز سرکٹ ٹیلویژن کے ذریعے حاصل ہونے والی تصویروں جاری کی ہیں ۔

لندن پولیس کمشنر نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔انہوں نے کہا کہ آپریشن صرف مجرموں کے خلاف جاری ہے نہ کہ کسی کیمونٹی کے خلاف۔

پولیس کے اسٹنٹ کمشنر نے کہا ہے کہ ایک شخص کالی جیکٹ پہنے ہوئے تھا جس کے اوپر نیویارک لکھا تھا۔ پولیس کے مطابق اس شخص نے یہ جیکٹ کچھ دور اتار کر پھینک دی

پولیس کمشنر نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر ان لوگوں میں سے کسی شخص کو جانتے ہوں تو وہ فوراً پولیس کو اطلاع دیں۔

ایک عینی شاہد مسٹر وٹبی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ انڈرگراؤنڈ ٹیوب میں بیٹھ کر اخبار پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے ایک شور سنا۔

’میں نے دیکھا کہ ایک ایشیائی لڑکا دوڑتا ہوا بوگی میں داخل ہوا۔ اس کا پیچھا کرتے ہوئے سادہ کپڑوں میں ملبوس تین پولیس اہلکار بھی ڈبے میں داخل ہوئے۔

اُن میں سے ایک سیاہ ہینڈگن اٹھائے ہوئے تھا۔ یہ ایک خودکار گن دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے اس لڑکے کو زمین پر لٹا لیا اور اس کے اوپر چڑھ کر پانچ گولیاں ماریں۔ میں نے گن کو تین مرتبہ فائر ہوتے دیکھا۔‘

درایں اثناء پولیس نے مشرقی لندن میں واقع ایک مسجد کو گھیرے میں لے لیا اور علاقے کے لوگوں کے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

بعد میں پولیس نے اعلان کیا کہ مسجد کا گھیراؤ بم کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا تھا اور اب چونکہ خطرہ ٹل گیا ہے اس لیے وہاں تعینات پولیس کو ہٹا دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ لندن میں بڑے پیمانے پر ان چار افراد کی تلاش جاری ہے جو لندن ٹیوب ٹرینوں اور ایک بس میں خود کش بم دھماکے کرنا چاہتے تھے۔

ماہرین کے مطابق جمعرات کو کیے گئے ناکام دھماکوں میں بھی اسی قسم کا مواد استعمال کیا گیا جس قسم کا سات جولائی کو کیے جانے والے دھماکوں میں کیا گیا تھا۔ استعمال کی جانے والی اشیاء کا وزن اور حجم بھی ایک جیسا تھا۔

جمعرات کو ہونے والے حملے 12:30 منٹ پر سینٹرل لندن میں وارن سٹریٹ سٹیشن، مغرب میں شیفرڈز بش سٹیشن، جنوب میں اوول اور مغربی لندن کے مقام شورڈچ میں کیے گئے۔

لندن کے علاقے شورڈچ میں چھبیس نمبر روٹ پر چلنے والی بس کی اوپر کی منزل میں ایک دھماکہ ہوا۔ اس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد