BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاکت کا جاری آپریشن سے تعلق ہے: پولیس
News image
گولی کا نشانہ بننے والا شخص سٹاک ویل سٹیشن سے ٹرین میں سوار ہوا تھا۔
لندن کے جنوبی علاقے سٹاک ویل میں پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو ٹیوب سٹیشن پر گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس کمشنر سر آئن بلیئر نے کہا ہے کہ سٹاک ویل پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت جاری آپریشن کا حصہ ہے۔

اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لوگوں سے اپیل کی وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے اور کسی ایک کمیونٹی کو اس کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ سٹاک ویل سٹیشن پر ہلاک ہونے والے شخص کو پولیس نے للکارہ تھا لیکن اس نے پولیس کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس نے سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس افسران کو ایک شخص کو گولی مارتے دیکھا ہے۔

عینی شاہد کے مطابق گولی کا نشانہ بننے والا شخص دوڑ کر انڈرگراؤنڈ ٹرین میں سوار ہوا تھا۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ مسلح پولیس افسران نے سٹاک ویل سٹیشن کے واقعہ میں حصہ لیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد ناردرن لائن کو خالی کرا دیا گیا۔ ایمبولنس سروسز اور ائیر ایمبولنس جائے واردات پر پہنچ گئے ہیں اور پولیس نے ملحقہ گلیوں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

ایک عینی شاہد مسٹر وٹبی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ انڈرگراؤنڈ ٹیوب میں بیٹھ کر اخبار پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے ایک شور سنا۔

News image
ناردرن لائن اور وکٹوریہ لائن سٹاک ویل سٹیشن سے ہو کر گزرتی ہیں
’میں نے دیکھا کہ ایک ایشیائی لڑکا دوڑتا ہوا بوگی میں داخل ہوا۔ اس کا پیچھا کرتے ہوئے سادہ کپڑوں میں ملبوس تین پولیس اہلکار بھی ڈبے میں داخل ہوئے۔ اُن میں سے ایک سیاہ ہینڈگن اٹھائے ہوئے تھا۔ یہ ایک خودکار گن دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے اس لڑکے کو زمین پر لٹا لیا اور اس کے اوپر چڑھ کر پانچ گولیاں ماریں۔ میں نے گن کو تین مرتبہ فائر ہوتے دیکھا۔‘

درایں اثناء پولیس نے مشرقی لندن میں واقع ایک مسجد کو گھیرے میں لے لیا اور علاقے کے لوگوں کے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

بعد میں پولیس نے اعلان کیا کہ مسجد کا گھیراؤ بم کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا تھا اور اب چونکہ خطرہ ٹل گیا ہے اس لیے وہاں تعینات پولیس کو ہٹا دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ لندن میں بڑے پیمانے پر ان چار افراد کی تلاش جاری ہے جو لندن ٹیوب ٹرینوں اور ایک بس میں خود کش بم دھماکے کرنا چاہتے تھے۔

ماہرین کے مطابق جمعرات کو کیے گئے ناکام دھماکوں میں بھی اسی قسم کا مواد استعمال کیا گیا جس قسم کا سات جولائی کو کیے جانے والے دھماکوں میں کیا گیا تھا۔ استعمال کی جانے والی اشیاء کا وزن اور حجم بھی ایک جیسا تھا۔

جمعرات کو ہونے والے حملے 12:30 منٹ پر سینٹرل لندن میں وارن سٹریٹ سٹیشن، مغرب میں شیپرڈز بش سٹیشن، جنوب میں اوول اور مغربی لندن کے مقام شورڈچ میں کیے گئے۔

لندن کے علاقے شورڈچ میں چھبیس نمبر روٹ پر چلنے والی بس کی اوپر کی منزل میں ایک دھماکہ ہوا۔ اس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد