BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 July, 2005, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیگناہ کی ہلاکت، پولیس کی معافی
یان چارلز
یان چارلز اپنے دوستوں کے ہمراہ
لندن پولیس کے سربراہ سرآئن بلئیر نے برازیل کے بے گناہ شہری کو دہشت گردی کے شبے میں قتل کیے جانے پر معافی مانگی ہے۔

ستائیس سالہ ژان چارلز دے مینیزیس کو جمعہ کے روز لندن کے انڈر گرونڈ سٹیشن سٹاک ویل سٹیشن پر گولی ماری دی گئی تھی۔


پولیس کے سربراہ نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہلاک کیے جانے والے شخص کا تعلق لندن دھماکوں کی جاری تحقیقات سے تھا۔

لندن پولیس نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ ستائیس سالہ ژان چارلز دے مینیزیس کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور اس پر وہ معافی مانگتے ہیں۔

ژان چارلز دے مینیزیس کی فیملی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان یقین نہیں آتا کہ ایسے ہو چکا ہے۔

ژان چارلز دے مینیزیس کے کزن نے جو لندن میں رہائش پذیر ہے، بی بی سی کو بتایا ہے کہ معافیاں کافی نہیں ہیں اور یہ ان کے کزن کا قتل پولیس کی نااہلی ظاہر کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ ان کے کزن کا کوئی ایسا ماضی نہیں تھا جو اس کو پولیس سے خوفزدہ کرے۔

برازیل کی حکومت نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور وزیر خارجہ سلسوامورم نے جو اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں، برطانوی حکام سے واقعہ کی وضاحت طلب کی۔

برازیل کے وزیر خارجہ نے برطانوی وزارت خارجہ کے اعلی افسر سے ملاقات کی اور برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔

برطانیہ کے حکام نے برازیل کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد کہ اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اس سے پہلے نے لندن پولیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے تسلی کر لی ہے کہ گزشتہ روز جنوبی لندن کے علاقے میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے شخص کا لندن میں ہونے والے ناکام بم حملوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس سلسلے میں جو بیان پڑھ کر سنایا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کے اب ہم اس شخص کی شناخت کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں جسے جمعہ 22 جولائی 2005 کو لندن کے زیر زمین سٹاک ویل سٹیشن گولیاں ماری گئیں‘۔

’ہم اب مطمئن ہیں کہ اس کا 21 جولائی کے واقعات سے تعلق نہیں تھا۔ اس طرح کے حالات میں کسی کا اس طرح جان سے جانا ایک سانحہ ہے اور میٹروپولیٹن پولیس کو اس واقعے پر افسوس ہے‘۔

بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ مذکورہ شخص اسی عمارت سے نکلا تھا جو زیر نگرانی تھی اور اسی لیے پولیس نے اس کا تعاقب کیا۔

کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیق پولیس ڈائریکٹریٹ کے افسر پیشہ ورانہ انداز پر کر رہے ہیں۔ جس کے بعد اسے پولیس کے شکایات کمیشن کے حوالے کیا جائے گا۔

News image


اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد