BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 July, 2005, 10:57 GMT 15:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشتی کی سیر دائرہ تفتیش میں
News image
کشتی ٹرپ میں شامل افراد کے تفتیش میں شامل ہونے کے قوی امکانات ہیں
لندن پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ اکیس جولائی کے حملوں سے وائٹ واٹر کشتی کے دورے میں شامل کسی شخص کا تعلق تو نہیں ہے۔اس میں دیگر افراد کے علاوہ سات جولائی کو بم حملوں میں ملوث دو افراد نے بھی شرکت کی تھی۔

لندن پولیس کو حاصل معلومات کی روشنی میں سات جولائی کےلندن بم دھماکوں میں مبینہ طور پرملوث افراد میں سےدو نے دھماکوں سے پہلے کینولفین ٹرائویرن ، نیشنل وائٹ واٹر سینٹر کے تیز پانی کے دھارے میں کشتی چلائی تھی۔

پولیس افسروں کا اس بارے میں یقین ہے کہ اس کشتی میں سوار باقی لوگوں کو بم دھماکے میں ملوث افراد سے تعلق کے شبہے میں ا کیس جولائی کے دھماکوں کے بارے میں کے جانے والی تفتیش میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا وہ مشتبہ حملہ آوروں یہی ہیں۔

اس ہفتے کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ محمد صدیق خان اور شہزاد تنویر جنہوں نے مبینہ طور پر سات جولائی کو دھماکے کیے انہوں نے چار جون کو کینولفن ٹرائویرن ، نیشنل وائٹ واٹرسینٹر میں ایک وائٹ واٹر کشتی ٹرپ میں شرکت کی تھی۔

اس بارے میں تصاویر خان اور تنویر کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔جنہوں نےایج وئیر روڈ اور آلگیٹ کیسل انڈر گراؤنڈ سٹیشنوں پر بم دھماکے کیے۔

تفتیش کاراس بارے میں حاصل ہونے والی نئی معلومات کی روشنی میں اس بات کی کھوج میں ہیں کہ اس کشتی میں سوار باقی افراد کا کیا اکیس جولائی کو ہونے والے بم دھماکے سے تعلق ہو سکتا ہے جس میں لندن کی تین انڈر گراؤنڈ ٹرینوں اور ایک بس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

افسروں کا اس بارے میں یقین ہے کہ اس ٹرپ میں بہت سے اور لوگوں نے بھی شرکت کی تھی ان کو بم دھماکوں کے بارے میں جاری تفتیش کےدائرہ کار کو آگے بڑھانےمیں شامل کیا جا سکتا ہے۔

نارتھ ویلیز میں واقع ایک کینوائے سینٹر کے مالک جون جیس نے مئی میں کشی ٹرپ میں شامل چار ایشیائی نوجوانوں کے بارے میں تمام معلومات پولیس کے حوالے کر دی ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک بیسٹن، لیڈز سے تعلق رکھتا تھا۔ جبکہ خان اور تنویر دونوں وہاں سے ہی آئے تھے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس جوڑے نےنوجوان مسلمانوں لڑکوں کے لیے اس ٹرپ کا اہتمام کیا تھا۔

اس سے قبل کینولفن ٹرائویرن کے ایک ترجمان نےاس ٹرپ میں حصہ لینے والوں کے ناموں کے حوالے سے صدیق خان اور شہزاد تنویر کے ناموں کی تصدیق کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد