BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 July, 2005, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہری کو ہلاک کرنے والے افسر چھٹیوں پر
سٹاکویل انڈرگراؤنڈ سٹیشن
سٹاکویل سٹیشن پر پولیس نے جس شہری کو مارا اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا
لندن میں ایک شہری کو دہشت گرد ہونے کے غلط شبہ پر ہلاک کرنے والے پولیس افسر کو اس کے محکمے نے بیوی بچوں سمیت چھٹیوں پر بھیج دیا ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ اس افسر کی چھٹی کے تمام اخراجات اٹھا رہی ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے اس افسر نے تئیس جولائی کو ایک شخص کو پیچھا کرنے کے بعد سٹاک ویل سٹیشن کی ایک انڈرگراؤنڈ ٹرین میں ہلاک کیا تھا۔ اُس شخص کے سر میں سات گولیاں ماری گئی تھیں۔
بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شخص خودکش حملے کی کوشش نہیں کر رہا تھا اور یہ برازیل کا ستائیس سالہ شہری تھا جو کہ پچھلے کئی سالوں سے لندن میں الیکٹریشن کا کام کر رہا تھا۔

پولیس کی انڈیپنڈنٹ پولیس کمپلینٹس کمیشن (آئی پی سی سی) اس واقعے کی تفتیش کر رہا ہے۔

واقعے میں ملوث افسران کا اس تفتیش کے دوران غیر مسلح ڈیوٹیوں پر تبادلہ کر دیا گیا ہے۔

ان میں سے ایک افسر پہلے ہی چھٹی پر ہے اور دوسرے کو اب سکاٹ لینڈ یارڈ نے خاندان سمیت چھٹی پر بھیج دیا ہے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے گھر سے کچھ عرصے باہر رہ سکے۔

پولیس نے ستائیس سالہ برازیل کے اس شہری کو خودکش حملہ آور ہونے کے غلط شبہ میں مار دیا
پولیس نے ستائیس سالہ برازیل کے اس شہری کو خودکش حملہ آور ہونے کے غلط شبہ میں مار دیا

ادھر اس واقعے میں ہلاک ہونے والے شہری ژان چارلز دے مینیزیز کے خاندان والوں اور دوستوں نے برازیل میں ایک احتجاجی مظاہرے میں ان کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان والوں نے اس ہلاکت کے سلسلے میں معاوضے کے امکان کے بارے میں بھی وکیلوں سے بات کی ہے۔

بدھ کو لندن میں کی گئی اخباری کانفرنس میں خاندان کے وکیل گیریتھ پیئرس نہ کہا کہ اس واقعے کے حقائق پر ایک سو ایک سوال ہیں جو پوچھے جانے چاہییں اور پولیس کی ’شوٹ ٹو کِل‘ پالیسی پر بھی ایک ہزار ایک سوالات ہیں۔

وکیل نے مطالبہ کیا کہ اس شہری کی ہلاکت کی انکوائری ایک کمیشن کرے۔

گیارہ ستمبر کے بعد سے برطانیہ میں پولیس دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائی میں ’شوٹ ٹو کِل‘ پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ ’آپریشن کریٹوس‘ نامی اس پالیسی کے تحت پولیس افسروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ خود کش حملہ آوروں کو روکنے کے لیے سر میں گولی مارنا سب سے موثر طریقہ ہے۔

اب اس بے قصور شہری کی ہلاکت کے بعد اس پالیسی پر بہت تنقید کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔

66250 سکیورٹی الرٹ
لندن حملوں کے بعد سینکڑوں الرٹ
66نئی برطانوی پالیسی
’شوٹ ٹو کِل‘ پالیسی پر تشویش اور جواز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد