’مغرب دھماکوں کا ذمہ دار ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے میئر کین لوینگسٹن نے کہا ہے کہ لندن دھماکوں کی ذمہ داری مغربی طاقتوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ماضی میں اسامہ بن لادن جیسے لوگوں کو دہشت گردی کی تربیت دی۔ لندن کے میئر نے کہا کہ لندن دھماکوں میں مغربی طاقتوں کی مشرق وسطیٰ کے بارے میں پالیسوں کا بڑا عمل دخل ہے جو تیل کے حصول کے لیے وہاں حکومت کو تبدیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کی شہ پر جو کچھ مشرق وسطیٰ میں تین نسلوں سے ہو رہا ہے اگر وہ سب کچھ ہمارے ہاں ہو رہا ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ ہم بھی کئی خود کش بمبار پیدا کر چکے ہوتے۔‘ لندن کے میئر نے کہا کہ انہیں لندن بم حملوں کے مرتکب افراد سے کوئی ہمدردی نہیں ہے لیکن وہ ان حکومتوں کی بھی مذمت کرتے ہیں جو اپنی غیر منصفانہ خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے بلاتفریق لوگوں کا قتل عام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی طاقتیں پچھلے اسی سال سے مشرق وسطیٰ میں مداخلت نہ کر رہے ہوتے تو لندن دھماکے نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب نے ہمیشہ مشرق وسطیٰ میں غیر مقبول حکومتوں کی حمایت کی اور ایسی حکومتوں کو گرا دیا جو ہمارے خیال میں مغرب کی مخالف تھیں۔ بی بی سی ریڈیو فور کو دیئے گئے انٹرویو میں لندن کے میئر نے کہا کہ معاملات اس وقت زیادہ خراب ہو گئے جب امریکہ نے اسی کی دہائی میں اسامہ بن لادن کو افغانستان میں روسیوں سے لڑنے کے لیے بھرتی کیا۔ کین لونکسٹن نے کہا کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن کو لوگوں کو مارنے، بم بنانےاور بم پھاڑنے کی تربیت دی۔’ ایسا کرنے والوں نے یہ نہیں سوچا کہ کل یہی اسامہ بن لادن ان کے خلاف بھی ہو سکتا ہے‘۔ انہوں نے مغربی حکومتیں تیل کی ترسیل میں رکاوٹ سے اتنے خائف تھیں کہ انہوں نےمشرق وسطیٰ میں مداخلت کو پالیسی جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پہلی جنگ عظیم کے بعد عربوں سے کیے ہوئے وعدے پر قائم رہتے ہوئے ان کے معاملات میں مداخلت نہ کرتے تو آج حالات اس نہج پر نہ پہچنتے ۔ انہوں نے کہا کئی نوجوان جب یہ دیکھتے ہیں کہ گوانتانوموبے میں کیا ہو رہا اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ مغرب کی خارجہ پالیسی منصفانہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا اسرائیلی حکومت صرف اس بنیاد پر فلسطینی علاقوں پر بمباری کرتے ہیں کہ اس علاقے سے حملہ آور نکل کر آتے ہیں جن میں معصوم بچے، عورتیں اور لوگ مارے جاتے ہیں۔ کن لیونگسٹن نے کہا لندن میں پچھتر ہزار مسلمان رہتے ہیں لیکن ہمیشہ تین چار غیر نمائندہ لوگوں کو اخبار کے صفحہ اول پر جگہ ملتی ہے جن میں کئی حقیقی دنیا سے بہت ہی دور رہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||