’دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات جولائی کو لندن انڈر گراؤنڈ پر مشتبہ مسلمان خود کش بمباروں کے حملوں کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے منگل کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مسلمان رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ اجلاس میں موجود ہر شخص نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ایک ایسا راست طریقِ عمل تشکیل دیا جائے جس سے لوگ مسلمان طبقے میں جا کر انتہا پسندانہ ’بدی کے نظریے‘ کا مقابلہ کر سکیں۔ اجلاس میں مسلمانوں کی طرف سے پولیس اور سیکورٹی سروسز کے ساتھ تعاون کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔ برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس اجلاس کے بعد ان کے حوصلے میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان طبقے اور سیاسی قائدین کے درمیان اس حوالے سے مکمل ہم آہنگی تھی۔ اس اجلاس میں پچیس سینئر مسلمان رہنما شریک تھے جن میں اپوزیشن کے لیڈر بھی شامل تھے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوری اقدام کے طور پر مسئلے کے حل کے لیے ٹاسک فورس قائم کی جائے گی۔ اس اجلاس کے بعد برطانوی اپوزیشن لیڈر مائیکل ہاورڈ نے کہا کہ مسلمان رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طبقے کے نوجوانوں سے رابطے میں رہیں تاکہ ’بدی کے تاجر‘ انہیں متاثر نہ کر سکیں۔ لبرل ڈیموکریٹس کے رہنما چارلس کینیڈی نے کہا کہ اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ٹاسک فورس مقامی سطح پر کام کرے گی لیکن اس کا ڈھانچہ مرکزی نوعیت کا ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ مسلمانوں کو ’نظریۂ بدی‘ کے سامنے آکر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اس شکست دینی ہوگی۔ اجلاس میں شریک ایک مسلمان رہنما شاہد شیخ نے کہا کہ مسلمانوں کے سامنے ایک چیلنج ہے جس کا سامنا کرنے کے لیے وہ تیار ہیں۔ پیر کو برطانوی مسلم سکالرز نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ خود کش بمبار شہید نہیں بلکہ مجرم ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||