’لندن حملوں سے ڈاکٹر کا تعلق نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر میں سینیئر حکومتی اہلکاروں نے کہا ہے کہ قاہرہ میں گرفتار کیے جانے والے کیمیا کے طالبِ علم مجدی النشار کا لندن بم حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ڈاکٹر النشار کو گزشتہ ہفتے قاہرہ میں گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ یارکشائر میں ان کے اس فلیٹ میں دھماکہ خیز مواد کے شواہد ملے تھے جو انہوں نے مشتبہ طور پر لندن حملوں میں ملوث بمبار کو کرائے پر دیا ہوا تھا۔ مصر کے اخبار الاہرام نے حکومتی اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ برطانیہ اور مصر میں تحقیقات کے سلسلے میں مکمل تعاون ہو رہا ہے اور برطانیہ تفتیش کے نتائج سے پوری طرح مطمئن ہے۔ تاہم اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مزید کچھ عرصے تک ڈاکٹر النشار مصری پولیس کے تحویل میں ہی رہیں گے۔ اخباری رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ ایک مشتبہ بمبار حسیب حسین کو جانتے تھے لیکن ان کو بالکل علم نہیں تھا کہ وہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل مصر کے وزیر داخلہ حبیب العدلی نے بھی کہا تھا کہ مصری کیمیا دان کا، جسے لندن بم حملوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں قاہرہ میں گرفتار کیا گیا تھا، القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مصری وزیر داخلہ نے اُن تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیا جس میں کیمیادان مجدی النشار پر لندن بم حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نشار صرف چھٹیاں گزارنے مصر آئے تھے اور ان کا لندن لوٹنے کا ارادہ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||