BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 July, 2005, 18:32 GMT 23:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فنزبری پارک میں بردباری کی تلقین

فنز بری پارک مسجد
فنز بری پارک مسجد میں نازِ جمعہ کے بعد نمازی باہر آ رہے ہیں
لندن میں فنزبری پارک کی مسجد میں ہر جمعے کئی قوموں کے لوگ نماز پڑھنے جمع ہوتے ہیں۔ الجیریا اور صومالیہ جیسے افریق ممالک سے لے کر بنگلہ دیش اور پاکستان جیسے ایشیائی ممالک کے باشندوں تک مختلف رنگ و نسل کے لوگ وہاں نظر آتے ہیں۔

لندن میں بم حملوں کے ایک ہفتے بعد جمعہ کے دن نمازی تو ویسے ہی نماز پڑھنے آئے لیکن مسجد کے دروازے کے سامنے آٹھ یا دس پولیس والے بھی کھڑے نظر آئے۔
نمازیوں کے مطابق ویسے تو ہر ہفتے ہی یہاں سکیورٹی ہوتی ہے لیکن اس جمعے ان کی تعداد زیادہ ہے۔

مسجد کے امام فیصل درمی کے مطابق پولیس کی موجودگی سے نمازیوں میں احساس تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ اور پولیس کی زیادہ تعداد ان کی درخواست پر نہیں بلکہ یہ لندن پولیس کا اپنا فیصلہ ہے۔

اس مسجد میں خطبہ عربی میں دیا جاتا ہے جس کا ساتھ ساتھ انگریزی ترجمہ بیان کیا جاتا ہے۔

اس ہفتے کے خطبے میں سب سے پہلے تو ذرائع ابلاغ اور خصوصًا مغربی ذرائع ابلاغ پر تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ اگر کسی اور مذہب کا کوئی فرد جرم کرے تو صرف اسی شخص کا نام لیا جاتا ہے لیکن کوئی مسلمان جرم کرے تو اسے مسلمان کہہ کر ایک طرح سے اس کے فعل کی ذمہ داری پوری مسلم امہ پر ڈال دی جاتی ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ اگر کسی شخص نے کوئی غلط کام کیا ہے تو صرف اس کا نام لیا جائے۔ اس کے خاندان یا برادری پر اس کے فعل کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
اس کے بعد قرآنی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اللہ تعالٰی نے حق دیا ہے کہ کوئی شخص اسلام کو چنے یا کفر کو۔ دین میں کوئی زبردستی نہیں اور سب کا صِلہ خدا کو خود دینا ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ اسلام میں قتل حرام ہے اور حالت جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں۔ بلا جھجک کسی کو بھی مار ڈالنا جائز نہیں۔

خطبے کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ رسول اللہ کی تعلیمات کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ا س لیے نہ تو شر کی پیروی کرنی چاہیے اور نہ ہی اس بہانے برائی کرنا جائز ہے کہ یہ کسی دوسرے کی حرکت کا رد عمل ہے۔

جمعہ کی نماز میں دو پاکستانی نوجوان بھی شامل تھے۔ان دھماکوں سے ان کی زندگی کیسے متاثر ہوئی۔ کراچی سے آئے سید عماد الحسن بتاتے ہیں: ’تھوڑا سا خوف مجھے محسوس ہو رہا تھا۔ مثلاً سٹیشن پر ایک شخص نے مجھے دھکا دیا اور انگریزی میں برا بھلا کہتے ہوئے گزر گئے۔‘

عماد الحسن نے یہ بھی بتایا کہ ان کے ایک دوست پر ایک مقامی شخص تھوک کر چلا گیا۔ لیکن ان کے ساتھ ہی کھڑے ان کے دوست آصف علی نے بتایا کہ انہیں لندن میں کوئی خوف نہیں لیکن یہاں رہنے والوں کا غصہ بجا ہے۔

’ظاہر ہی بات ہے کسی کے ملک میں اس طرح کوئی کرے گا تو مزاحمت تو ہوگی۔ اور رد عمل کرتے بھی ہیں تو ان کا حق ہے۔ اگر پاکستان میں اس طرح ہو تو پاکستانی برداشت تھوڑی کریں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد