’خودکش حملے غیر اسلامی ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں مسلمانوں کے مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے پانچ سو سے زائد علماء نے خود کش حملوں کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ برٹش مسلم فورم کی جانب سے جاری کیے گئے اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ خود کش حملے کے ذریعے لوگوں کو ہلاک کرنا شہادت نہیں ہے بلکہ یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ بی بی سی کی مذہبی امور سے متعلق نامہ نگار جین لٹل کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اتنی بڑی تعداد میں اس طری متحد ہو کر فتویٰ جاری کرنے کا یہ پہلا موقع ہے۔ فتوے کے مطابق لندن میں جن بم دھماکوں سے لوگوں کو ہلاک کیا گیا وہ حرام فعل تھے اور انسانیت کے خلاف جرم تھے۔ اس فتوے پر اب تک پانچ سو بارہ علماء نے دستخط کیے ہیں۔ یہ فتویٰ برطانوی پارلیمان کے باہر پڑھ کر سنایا گیا۔ برٹش مسلم فورم کے گل محمد نے کہا کہ یہ فتویٰ اس بات کا بڑا ثبوت ہے کہ برطانیہ میں مسلمان انتہا پسندی سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ منگل کو برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر مسلمان طبقے کے بڑے بڑے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں جس میں موضوع گفتگو ’خودکش حملہ آور‘ ہوگا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ حکومتِ برطانیہ مسلمان طبقے سے صحیح طرح رابطے میں نہیں آ رہی اور اسے مسلمانوں کے نچلے طبقے تک رسائی کرنا چاہیے۔ برٹش مسلم فورم مارچ دو ہزار پانچ میں بنائی گئی تھی اور تین سو مسجد اس سے وابستہ ہیں۔ یہ فتویٰ بائیس جولائی کو لندن کی مساجد میں پڑھا جائےگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||