BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 July, 2005, 12:35 GMT 17:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی ملٹی کلچرلزم پر سوال

سلمان رشدی کے ناول کے خلاف برطانیہ میں مظاہرے(فائل فوٹو)
سلمان رشدی کے ناول کے خلاف انیس سو نواسی میں برطانیہ میں مظاہرے(فائل فوٹو)
برطانیہ میں پندرہ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں میں سے کچھ نوجوانوں کا انتہا پسندی کی طرف مائل ہونا گرما گرم بحث کا موضوع بنتا رہتا ہے۔ اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا برطانیہ میں مختلف ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر مبنی معاشرہ تشکیل دینے کا تجربہ کامیاب ہو رہا ہے یا نہیں۔

مسلمان برطانیہ میں صدیوں سے مقیم ہیں لیکن ان کے بارے میں تنازعات زیادہ پرانی بات نہیں۔

گزشتہ پندرہ سالوں میں تین ایسے واقعات ہوئے جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کشیدگی بڑھی۔ ان میں انیس سو اسّی کی دہائی میں سلمان رشدی کی کتاب کا معاملہ، امریکہ میں نو ستمبر کے حملے اور ان کے برطانیہ پر اثرات اور اب ان دونوں سے زیادہ خطرناک لندن کے بم دھماکے شامل ہیں۔

لندن میں ہونے والے حملے برطانوی پالیسی سازوں کے لیے ایک چیلنج ہیں۔

سلمان رشدی کی کتاب پر ہنگامے ایک اہم موڑ تھا۔ اس وقت تک برطانوی شہریوں، خاص طور پر لندن اور ملک کے جنوب میں رہنے والے خوش حال طبقے کو، لیڈز اور بریڈفورڈ جیسے علاقوں میں پھیلتی ہوئی مسلمان آبادیوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا۔

اس لیے بریڈفورڈ میں سلمان رشدی کی کتابوں کا جلایا جانا برطانویوں کے لیے ایک بڑا دھچکہ تھا۔

رشدی کی کتاب پر ہنگاموں سے مسلمانوں اور مقامی آزاد خیال آبادی کے درمیان بڑی خلیج سامنے آ گئی۔ مسلمانوں کے خیال میں رشدی کی کتاب ان کے مذہب اور پیغمبر کے لیے توہین آمیز تھی جبکہ مخالف سوچ رکھنے والوں کے لیے ایک ناول کا جلایا جانا تو کجا اس پر پابندی ہی ناقابل یقین تھی۔

ایران کی طرف سے سلمان رشدی کے خلاف فتوے نے عوامی رائے کو مزید منتشر کیا۔

سلمان رشدی کے ناول پر تنازعہ سے برطانیہ میں مسلمانوں کی موجودگی پر، جن کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں تھی، پہلی بار سنجیدہ بحث کا آغاز ہوا۔

برطانیہ میں مسلمان زیادہ تعداد میں دوسری جنگ عظیم کے بعد آئے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت سے آنے والے مسلمان برطانیہ کی ٹیکسٹائل کے لیے سستی لیبر کا ذریعہ تھے۔

ابتداء میں یہ لوگ پیسے کمانے آتے تھے اور ان کا یہاں رہنے کا ارداہ نہیں ہوتا تھا۔ انیس سو ستّر کی دہائی میں یہ اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لانے لگے۔

سلمان رشدی کا تنازعہ شروع ہونے تک انہوں نے اپنے آپ کو مسلمان تارکین وطن کی بجائے برطانوی مسلمان کہنا شروع کر دیا تھا۔

سلمان رشدی کے خلاف تحریک عام طور پر یہاں آنے والی پہلی نسل نے چلائی تھی لیکن اس نے یہاں پیدا ہونے والی دوسری نسل کو بھی متحرک کر دیا۔

سیاستدانوں اور مبصرین نے برطانیہ میں ناراض نوجوان مسلمانوں کی ایک نئی نسل کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی۔

ملکی اور خارجی سطح پر مختلف معاملات نے ان نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلا۔

ان معاملات میں فلسطینی انتفادہ، انیس سو اکیانوے کی خلیج کی جنگ اور یوگوسلاویہ کے مسلمانوں کی بدحالی شامل ہیں۔

اسی دوران بہت سے نوجوان برطانوی مسلمانوں کو بڑے شہروں کے مخصوص مسائل جن میں جرائم، منشیات، بیروزگاری اور تعصبات کا سامنا کرنا پڑا۔

بہت سوں نے محسوس کیا کہ ان کے خلاف ان کے رنگ اور مذہب کی وجہ سے تعصب برتا جاتا ہے۔

اسی ماحول میں امریکہ میں نو ستمبر کے واقعات ہو گئے۔ خطرہ محسوس کیا جانے لگا کہ مغربی ممالک میں رہنے والے نوجوان مسلمان القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے نظریات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

مارچ دو ہزار چار میں میڈرڈ اور اب لندن کے بم دھماکوں کے بعد یہ سوال فوری توجہ کا طالب ہو گیا ہے۔

لندن کے حملوں میں نوجوان برطانوی مسلمانوں کا نام آنا مسلمان رہنماؤں اور بلیئر کے حکومت کے لیے نئے چیلنج پیش کرتا ہے۔

مسلمان والدین، اساتذہ اور سماجی رہنماء سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا انہوں نے انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کیا کیا؟

برطانوی میں انیس سو ساٹھ کی دہائی کے بعد سے متعارف ہونے والی لبرل پالیسیوں کو اجتماعی طور پر ’ملٹی کلچرلزم‘ کہا جاتا ہے۔

برطانیہ میں ’ملٹی کلچرلزم‘ یعنی کثیر الثقافتی نظام کا مقصد ملک میں بسنےوالی مختلف قوموں کو قریب لانا تھا لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی نے لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کیا ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد