اسامہ کی حمایت میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کروائے گئے ایک سروے کے مطابق متعدد اہم مسلم ممالک میں اسامہ بن لادن اور اسلامی شدت پسندوں کی حمایت میں کمی آ رہی ہے۔ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ’پیو ریسرچ سنٹر‘ کی جانب سے کیے جانے والے اس سروے میں مختلف مسلم ممالک کے ایک ہزار افراد سے سوالات کیےگئے۔ ’پیو ریسرچ سنٹر‘ عام طور پر بین الاقوامی رجحانات اور عالمگیریت جیسے عوامل پر مستقل بنیادوں پر سروے کرواتا رہا ہے اور اس نے گیارہ ستمبر 2001 میں ہونے والے حملوں کے بعد اپنے سوالناموں میں دہشت گردی سے متعلق سوالات بھی شامل کیے تھے۔ گزشتہ ہفتے لندن میں ہونے والے دھماکوں سے قبل کروائے گئے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ خودکش حملوں کی حمایت واضح طور پر کم ہوئی ہے۔ لبنان میں جن افراد سے خود کش حملوں سے متعلق سوال کیا گیا ان میں سے صرف ایک تہائی افراد کا کہنا تھا کہ ان حملوں کو کسی بھی طریقے سے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں بھی جہاں ان خود کش حملوں کی حمایت میں پہلے ایک تہائی افراد نے ووٹ دیا تھا اب ایک چوتھائی افراد ان حملوں کے حق میں ہیں۔ انڈونیشیا اور مراکش جیسے ممالک میں بھی اسامہ بن لادن کی حمایت میں کمی آئی ہے جبکہ دو برس قبل ان ممالک کی نصف آبادی ان کے حق میں تھی۔ اس تحقیق میں مسلم اکثریتی آبادی والے متعدد ممالک میں اسلامی شدت پسندی میں ہونے والے اضافے پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||