’پتہ ہے کہ اسامہ کہاں ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی سینٹرل انویسٹیگیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر پورٹر گوس نے کہا ہے کہ انہیں واضح طور پر معلوم ہے کہ اسامہ بن لادن کہاں ہیں اور وہ اس سلسلے میں اچھی سمت جا رہے ہیں۔ ’ٹائم‘ میگزین کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کچھ کمزور کڑیاں ہیں اور اسامہ بن لادن کو اس وقت نہیں پکڑا جا سکتا جب تک سب رابطے یا کڑیاں مظبوط نہ ہو جائیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس کافی بہتر آئیڈیا ہے کہ اسامہ کہاں ہے تو ان کا جواب تھا: ’میرے پاس بہت اچھا آئیڈیا ہے کہ اسامہ کہاں ہے۔ اگلا سوال کیا ہے‘۔ سی آئی اے کے سربراہ نے پاکستان یا افغانستان میں سے کسی بھی ملک کا نام نہیں لیا کہ اسامہ دونوں ممالک میں سے کہاں ہیں۔ سی آیی اے کے سربراہ کا انٹرویو اس وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور افغانستان میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد کے درمیان الفاظ کی جنگ کی چھڑی ہوئی ہے۔ زلمے خلیل زاد اکثر پاکستان پر دہشت گردوں کی پناہ کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر پاکستان کا ایک ٹی وی سٹیشن ان سے (اسامہ کے کمانڈر) رابطہ کر سکتا ہے تو پاکستان جیسے ملک، جس ملک کے پاس نیوکلیئر بم ہیں اور بہت سے سکیورٹی اور فوجی ذرائع ہیں، کی انٹیلیجنس سروس ان کا پتہ کیوں نہیں معلوم کر سکتی۔ زلمے خلیل زاد کے اس بیان کے بعد پاکستان میں اس کے خلاف کافی شدید ردِعمل ہوا تھا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسے ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا تھا۔ سی آئی اے کے سربراہ گوس نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ وہ ایجنسی میں کافی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی کافی بہتر کام کر رہی ہے اور القاعدہ کی اہلیت سے دو قدم آگے سوچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے مزید حملوں کا خطرہ اب بھی کافی زیادہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||