مذہبی منافرت کےقوانین پر رائےمنقسم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کی نیوز کی ویب سائٹ کے لیے کئے جانےوالے ایک سروے کے مطابق مذہبی منافرت پھیلانے کے خلاف مجوزہ متنازعہ قوانین کے بارے میں رائے عامہ منقسم ہے۔ لندن میں بم حملوں کے بعد کیے جانے والے رائے عامہ کے اس جائزے میں اکاون فیصد افراد نے مجوزہ قوانین کے حق میں رائے دی جبکہ چوالیس فیصد عوام ان کے خلاف ہیں۔ مجوزہ قوانین کا مقصد ہر مذہب اور ہر عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے لیکن اس کے ناقدین کا خیال ہے کہ یہ اظہار رائے کی آزادی پر ایک قدغن ہے۔ اس جائزے میں ایک ہزار پانچ افراد سے رائے لی گئی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ مذہبی لوگ بھی اس کے اسی قدر مخالف تھے جیسے کہ مذہب سے دور یا غیر مذہبی لوگ۔ اس سروے سے، جس کا اہتمام بی بی سی نے مذاہب پر اپنی کی ایک سیریز کے سلسلے میں کرایا تھا، معلوم ہوا کہ عوام کی اکثریت ان قوانین کے حق میں ہے جن میں مذہبی اقدار کا احترام کیا جائے اور جن پر ان مذہبی اقدار کا اثر ہو۔ مذہبی عقائدہ سے متصادم مواد کو نشر کرنے کے حوالے سے بہت ہی منقسم رائے سامنے آئی۔ اس جائزے میں ہم جنسی پرستی، خواتین کے مذہبی منصبوں پر تقرری، ہم جنس پرست مذہبی پیشواؤں پر تنازعہ اور چرچ آف انگلینڈ کی طرف سے خواتین کو بشپ مقرر کرنے کی حمایت کرنے جیسے حساس نوعیت کے معاملات پر بھی عوامی رائے حاصل کی گئی۔ اکسٹھ فیصد افراد اس حق میں تھے کہ برطانوی قوانین کو مذہبی اقدار کا احترام اور ان سے مطابقت رکھنی چاہیے۔ اٹھہتر فیصد افراد نے خواتین کو مذہبی مناصب پر فائز کیے جانے کی حمایت کی۔ اڑتالیس فیصد کو مذہبی عہدوں پر ہم جنس پرستوں کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں تھا جبکہ انتالیس فیصد اس کے مخالف تھے۔ ہم جنس پرست پادریوں کے حق میں عیسائی اپنے مخالفین سے ایک فیصد زیادہ تھے۔ ہم جنس پرستوں کے مذہبی عہدوں پر ہونے کے حق میں آٹھ فیصد خواتین زیادہ تھیں۔ قوانین میں مذہبی اقدار کی پاسداری اور احترام کے حق میں مذہبی لوگوں کا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں تھی لیکن غیر مذہبی لوگ کی اکثریت بھی اس کے حق میں تھی۔ انتالیس فیصد لوگوں اس حق میں تھے کہ نشریات کے دوران ایسی زبان استعمال نہیں کی جانی چاہیے جن سے کسی عقیدے اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی دل آزاری ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||