نجف اور فلوجہ پر امریکی حملے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نجف میں شدید لڑائی ہو رہی ہے اور امریکی طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر شہر میں محصور مقتدی الصدر کے حامیوں کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں۔ رائٹر خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی گن شپ ہیلی کاپٹر کے حملوں کے بعد نورنجی رنگ کے شعلوں سے نجف کا شہر روشن ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں مقتدی الصدر کے حامیوں نے آئل کمپنی کو نذر آتش کر دیا۔ رائٹر نے آئل کمپنی کے حوالے سے کہا ہے کہ آگ بہت زیادہ ہے جس میں کم از کم دس گودام اور کمپنی کا مرکزی دفتر کو نذر آتش کر دیا ہے۔ مقتدی الصدرکے حامیوں نے دھمکی دے رکھی تھی کہ اگر نجف پر حملہ کیا گیا تو وہ عراق کی تیل کے کنوؤں اور تیل کے دوسرے ذخائر کو نذر آتش کر دیں گے۔ عراق کی عبوری کے سربراہ ایاد علاوی نے مقتدی الصدر اور ان کی حامی ملشیا کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں اور حضرت علی کے روضہ سے چلے جائیں۔ ایاد علاوی نے کہا ہے کہ مقتدی الصدر اور اس کے حامیوں نے تشدد اور اشتعال کی تمام حدیں پار کر لی ہیں ۔حالانکہ انہوں نے پوری کوشش کی ہے کہ وہ پرامن سیاسی دھارے میں شامل ہو جائیں۔ ٹیلیوژن چیلنز پر نجف میں ہونے والی امریکی بمباری کی وجہ سے اٹھنے والے دھویں کے بادل دکھائے جا رہے ہیں۔ نجف میں مقتدی الصدر کی حامی ملیشیا اور امریکی اور عراقی فوجوں میں لڑائی جاری ہے۔ دریں اثناء بغداد کے سخت حفاظتی علاقے ، زون فور، میں ایک بم دھماکے کی اطلاع ہے ۔ دھماکے سے ہونے والے نقصانات کی ابھی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہیں۔ اس علاقے میں عراقی حکومت کے دفاتر اور امریکی سفارت خانہ واقع ہیں۔ عراق کی حکومت نے مقتدی الصدر سے دوسری دفعہ کہا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں ۔ البتہ مہدی ملیشیا نے عراقی حکومت کی طرف سے کیے گئے اعلان پر کوئی دھیان نہیں دیا۔
عراق کے وزیر داخلہ قاسم داؤد نے کہا ہے کہ مقتدی الصدر نے تحریری طور پر یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر امریکی اور عراقی فوجی نجف سے نکل جائیں تو وہ بھی شہر سے نکل جائیں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مقتدی الصدر کو پریس کانفرنس کر کے اپنے حمایتیوں کو ہتھیار ڈالنے کی تاکید کرنی چاہیے۔ نجف میں ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک پولیس تھانے پر حملے میں نو لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||