’فلوجہ میں شہریوں کی حالت ابتر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر فلوجہ میں امریکی اور عراقی افواج کے جاری فوجی آپریشن کے پانچویں دن بھی مزاحمت کار بدستور اپنی پوزیشنوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق اب تک اس کے بائیس فوجی ہلاک ہوچکے ہیں ۔ ہلال احمر اور ریڈ کراس کی تنظیموں نے فلوجہ میں محصور شہریوں کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ان کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہر میں پینے کا پانی اور بجلی نہیں ہے۔ خوراک اور طبی سہولیات بھی کئی دنوں سے جاری جنگ کی وجہ سے ختم ہو رہیں ہیں ۔ اور لوگ محض خون بہہ جانے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ جبکہ عراقی حکومت شہر میں امدادی سامان لے جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔ ادھر عراق کے شمالی شہر موصل میں حکومت شہر میں نیشنل گارڈّ کی کمک بھیج رہی ہے ۔شہر کے پولیس چیف کو مزاحمت کاروں کی مدد کے الزام میں معطل کردیا گیا ہے۔ یہ اقدامات وہاں تشدد آمیز واقعات میں اضافے کے بعد کیے گئے ۔ شہر میں موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق مزاحمت کاروں نے کئی پولیس اسٹیشنوں کو آگ لگا دی اور وہ شہر میں بغیر کسی روک ٹوک کے پھر رہے ہیں ۔ فلوجہ میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کو شہر کے ایک کونے میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس میں چند دن لگ سکتے ہیں۔ امریکی فوج کے کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں چند دن مزید لگ سکتے ہیں۔ دریں اثناء ایک ویب سائٹ پر شدت پسند رہنما مصعب الزرقاوی نے مزاحمت کاروں سے امریکہ کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے لیے کہا ہے۔ فلوجہ شہر کے مرکز میں مزاحمت کاروں اور امریکی فوجوں میں سخت لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ فلوجہ میں امریکی فوجیوں کے ٹھکانے پر مزاحمت کارروں کے حملوں کی وجہ سے امریکی فوج کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ امریکی فوج کے مطابق وہ ابتک چھ سو کے قریب مزاحمت کارروں کو فلوجہ میں ہلاک کر چکے ہیں۔ فلوجہ میں امریکی فوجیوں کے نقصان کےبارے میں ترجمان نے بتایا ہے کہ ابتک اس کے علاوہ بغداد میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں جھڑپیں جاری رہیں۔ الجزیرہ ٹی وی نے ایک وڈیو دکھائی ہے جس میں ایک امریکی کو دکھایا گیا ہے جسے بغداد کے ہوائی اڈے سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کا نام ڈین سیڈک بتایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جرمنی میں اس امریکی فوجی ہسپتال میں گنجائش بڑھا دی گئی ہے جہاں عراق میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جمعرات کو دو امریکی کوبرا ہیلی کاپٹروں کو بھی نقصان پہنچا اور ان کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔حکام کے مطابق ان ہیلی کاپٹروں پر ہلکے آتشیں اسلحے اور دستی بموں سے حملہ کیا گیا تھا۔ امریکی فوجیوں کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ نے بتایا ہے کہ امریکی فوجیوں کے اگلے مورچوں پر سخت حملے ہوئے ہیں اور مزاحمت کارروں نے امریکی بکتر بند گاڑیوں پر بھی فائرنگ کی ہے جس سے کئی میرین زخمی ہو گئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کو ایک امریکی میرین فوجی نے بتایا ہے کہ مزاحمت کار دوبارہ اکھٹے ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||