BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 July, 2005, 02:29 GMT 07:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشت گردی پرنئے قوانین پر اتفاق
چارلس کلارک
یہ نئے قوانین اکتوبر کے مہینے میں پارلیمان کے سامنے رکھے جائیں گے۔
لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف نئی قانون سازی کے لئے برطانیہ کی تینوں بڑی جماعتوں میں اتفاق ہوگیا ہے۔

اس سلسلے میں دہشت گردی کی تیاری، اس کے لئے تربیت اور اس کی ترغیب دلانے جیسے مسائل پر اکتوبر کے مہینے میں برطانوی پارلیمان کے سامنے قانونی مسودے پیش کئے جائیں گے۔

دہشت گردی کے خلاف نئے قوانین پر اتفاق رائے برطانوی وزیر داخلہ چارلس کلارک ، کنزرویٹیو پارٹی کے ڈیوڈ ڈیویز اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے مارک اوٹن کے درمیان ہونے مذاکرات کے بعد قائم ہوا۔

اسی اثنا میں لندن دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب چھپن ہوگئی ہے۔

بی بی سی نے ان دھماکوں میں ملوث ایک مشتبہ بمبار محمد صدیق خان کی ایک نئی ویڈیو حاصل کی ہے جس میں وہ لیڈز میں ایک کمیونٹی سینٹر میں بچوں کو ڈرانے دھمکنے سے نبٹنے کے طریقوں کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

محمد صدیق بطور ایک ٹیچر اور یوتھ ورکر کے باقی مشتبہ بمباروں یعنی شہزاد تنویر اور حسیب حسین سے ملے۔ پولیس کے مطابق شہزاد اور صدیق پچھلے سال اکھٹے پاکستان بھی گئے جہاں انہوں نے تین ماہ کا عرصہ گزارا جبکہ حسیب حسین پچھلے سال جولائی میں وہاں گئے لیکن یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے وہاں کتنا وقت گزارا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کی تفتیش جاری ہے اور اس میں دو ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار شامل ہیں جبکہ ان میں سے پانچ سو کے لگ بھگ اس تفتیش پر مستقل کام کرتے رہیں گے۔ برطانیہ کی تاریخ میں ہونے والی سب سے بڑی تفتیش میں پولیس مختلف مقامات پر لگے کیمروں سے لی گئی پچیس ہزار ویڈیو ٹیپوں کا معائنہ کرے گی۔

ایک اور پیش رفت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولیس ایک بمبار جرمین لنڈسے کی طرف سے لندن بم حملوں سے کچھ دن پہلے ایک ہزار پاؤنڈ مالیت کے پرفیوم خریدنے کے معاملے کی بھی تحقیق کررہی ہے۔ پرفیوم کو دھماکہ خیز مواد کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ محمد صدیق کے ساتھ برطانیہ کے انٹیلی جینس ادارے ایم آئی فائیو نے ایک اور دہشت گردی کے منصوبے کے سلسلے میں تفتیش کی تھی لیکن سیکورٹی کے لئے کوئی رسک ثابت نہ ہونے کے بعد انہیں تفتیش سے الگ کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد