BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 July, 2005, 15:06 GMT 20:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عتیق: قیامت سے قیامت تک
عتیق شریفی
چوبیس سالہ عتیق شریفی تین سال پہلے برطانیہ آئے تھے
افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں والدین کی ہلاکت کے بعد اپنے ملک میں پُر تشدد حالات سے فرار ہو کر برطانیہ آنے والا ایک نو جوان افغان بھی لندن کے بم حملوں میں مارے جانے والوں میں شامل تھا۔

چوبیس سالہ عتیق شریفی تین برس پہلے افعانستان سے برطانیہ آئے تھے۔ انہوں نے پہلے انگریزی زبان سیکھی اور پھر لندن کے علاقے ہاؤنسلو کے ایک کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہ ایک پیزا ٹیک اوے میں کام بھی کرتے تھے اور پیسے افغانستان میں اپنی بہن کو بھیجتے تھے۔

عتیق شریفی کی افسوسناک داستان اس وقت سامنے آئی جب پولیس نے ان کی لاش کی شناخت کی اور بدھ بیس جولائی کو کورونر کی عدالت میں اس کی ہلاکت پر تفتیش شروع ہوئی۔ ’انکویسٹ‘ نامی یہ مخصوص تفتیش برطانیہ میں ہر ہلاکت پر ہوتی ہے۔

انکویسٹ کی کارروائی کے حوالے سے برطانوی اخبار ’دی انڈی پینڈنٹ‘ نے عتیق شریفی کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے۔

عتیق شریفی حملوں کی صبح اپنے کچھ دوستوں کے ہاں سے واپس لوٹ رہے تھےجہاں انہوں نے رات گزاری تھی۔

بدھ کو انکویسٹ کی کارروائی میں عتیق کے کالج کی پرنسپل نے ان کے بارے میں کہا کہ وہ ایک بہت محنتی اور اچھے طالب علم تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی دکھ کی بات ہے کہ وہ افغانستان سے حفاظت کی تلاش میں برطانیہ آئے تھے اور یہاں پر ان کی قسمت یہ تھی کہ شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔

 عتیق کے کالج کی پرنسپل نے ان کے بارے میں کہا کہ وہ ایک بہت محنتی اور اچھے طالب علم تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی دکھ کی بات ہے کہ وہ افغانستان سے حفاظت کی تلاش میں برطانیہ آئے تھے اور یہاں پر ان کی قسمت یہ تھی کہ شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔

کالج کی ایک اور ٹیچر نے بتایا کہ عتیق اپنے ساتھیوں میں بہت مقبول تھےاور کلاس میں سب کو ہنسایا کرتے تھے۔ ’وہ کلاس سے کبھی غیر حاضر نہیں ہوتے تھے اور انفورمیشن ٹیکنالوجی میں میرے سب سے اچھے سٹوڈنٹس میں سے تھے۔‘

عتیق شریفی ہاؤنسلو کے علاقے میں تین اور افغانوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔ ان کے ساتھ رہنے والوں نے بتایا کہ عتیق کے بہت سارے دوست تھے۔ وہ اچھے کپڑے پہننے کے شوقین تھے اور با قاعدہ جِم جایا کرتے۔ انہوں نے ڈرائیونگ لائسنسن حاصل کرنے کے لیے اگلے ماہ کی ٹیسٹ کی تاریخ لی ہوئی تھی۔

لندن میں افغان سفارتخانے نے بتایا ہے کہ عتیق شریفی کی میت کو تدفین کے لیا واپس افغانستان لے جایا جائے گا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے بھی بدھ کو عتیق شریفی سمیت لندن حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کنگز کراس سٹیشن پر پھولوں کا گلدستہ رکھا۔

66’انہیں شہید نہ کہو‘
خود کش حملے بے جواز ہیں: برطانوی علماء
66حملے کے بعد
لندن والے اپنی معمول کی زندگی پر واپس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد