وزراء مسلم رہنماؤں سے ملیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی ہوم آفس وزیر ہیزل بلیئر اولڈ ہیم میں مسلمان رہنماؤں، کونسلروں، پولیس افسران اور ممبرانِ پارلیمان سے ملاقات کرنے والی ہیں۔ یہ برطانوی مسلمانوں سے ملاقاتوں کے اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے جس کا مقصد باہمی تعلقات کی بہتری اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہوم آفس کے مطابق اس ملاقات میں مشترکہ مسائل پر بات ہوگی۔ محترمہ بلیئر نےمسلم ممبران پارلیمان کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ ’ مسلمان رہنما یہ جانتے ہیں کہ صرف دھماکوں کی مذمت کرنا کافی نہیں اور انہیں اس شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دینا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ میں ستمبر میں مسلم رہنماؤں سے ملاقات سے قبل مسلم آبادی کے خیالات جاننے کے لیے آپ لوگوں کی مدد کی طلبگار ہوں‘۔ ان متوقع آٹھ ملاقاتوں میں سے ہر ایک کا مقصد شدت پسندی اور بنیاد پرستی سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا، نوجوان اور خواتین مسلمانوں سے رابطہ، مسلمانوں کی ضروریات سے آگاہی، وزراء کی تربیت، اس مقصد کے لیے مساجد کا استعمال اور سکیورٹی کے معاملات پر بات کرنا ہو گا۔ برطانوی وزیرِ داخلہ چالس کلارک بیس ستمبر کو مسلم رہنماؤں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ ایک حکومتی ترجمان کے مطابق وہ اس ملاقات میں ٹھوس تجاویز کا اعلان کریں گے۔ سات جولائی کے دھماکوں کے بعد برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر نے پچیس مسلم رہنماؤں سے ملاقات کی تھی جن میں مسلم کونسل آف برٹن کے جنرل سیکرٹری سر اقبال سکرانی اور مسلم ممبران پارلیمان شامل تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||