دھماکوں کا مسلم طلباء پر اثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن دھماکوں نے شہر کی شہ رگ پر کاری ضرب لگائی۔ اس مرکزی شہر کی مڑتی، ملتی، باہم جڑی ہوئی انہی گلیوں میں دنیا کے نامور تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ ان میں دنیا کے تقریباً ہر حصے سے طالب علم آتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق لندن میں ہر سال ایک لاکھ طالب علم آتے ہیں۔ ان میں مسلمان طالب علموں کی بھی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں مختلف نقطۂ نظر کو مدِنظر رکھتے ہوئے سوسائٹیاں اور تنظیمیں موجود ہیں جو مختلف سرگرمیوں کو جلا دینے کا کام کرتی ہیں۔ تقریباً ہر یونیورسٹی میں اسلامی سوسائٹی مسلمان طالب علموں کو پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہوتی ہے۔ ان حالیہ دھماکوں کا ان سوسائٹیوں اور مسلمان طالب علموں پر کیا اثر پڑے گا؟ بی بی سی اردو نے یہ سوال مرکزی لندن کی جانی پہچانی یونیورسٹیوں کے مسلم طالب علموں سے پوچھا: رسل سکوائر سے ملحقہ ’سکول آف اوریئنٹل اینڈ افریکن سٹیڈیز‘ (سواس) کے سٹوڈنٹ یونین کے صدر مشتاق احمد نے کہا کہ ’ان دھماکوں سے ہماری ساکھ پر اثر پڑے گا۔ پہلے ہی مسلمانوں کا امیج اچھا نہیں ہے اب اور زیادہ متاثر ہوگا۔ عام قانون کے پابند شہریوں کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ سواس میں طالب علموں پر فرق نہیں پڑے گا۔ یہاں پر شائستہ لوگ پڑھتے ہیں۔ وہ دھماکوں کو عام مسلمانوں کے ساتھ منسلک نہیں کریں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب مسجدوں اور مدرسوں کو چیلنج کا سامنا ہے۔ انکی افادیت پر کئی سوال پیدا ہوں گے۔ ہولبرن کے علاقے میں واقع ’لندن سکول آف اکنامکس‘ (ایل ایس ای) کی اسلامی سوسائٹی کے ایک طالبعلم رہنما کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایل ایس ای میں مسلمان طالب علموں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہاں پر سب لوگ پڑھے لکھے ہیں لیکن ملک بھر میں دہشت گردی کے حوالے سے قوانین سخت ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو قتل کرنا شریعہ کے خلاف اور حرام قدم ہے۔ اپنا نام بتانے سے گریز کرنے والے طالبعلم رہنما کا کہنا تھا کہ وہ کسی ایسے مسلمان طالبعلم کو نہیں جانتے جو عام نہتے شہریوں کے قتل کو کسی طور پر جائز قرار دیتے ہوں۔ ’ تمام لوگ اس کی مذمت کرتے ہیں۔ لیکن اگر حملے فوجی تنصیبات پر کیے جاتے تو ان کو کافی حمایت حاصل ہو تی۔ فوجی اڈے عراق میں مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ انکے خلاف حملے جائز قرار دیے جاسکتے ہیں۔‘ حجاب لینے والی دو سوڈانی مسلمان طالبات کا کہنا تھا کہ ان کو حملوں سے کوئی واضح فرق نہیں پڑا ہے۔ ان کو کسی نے کچھ نہیں کہا ہے۔ ایل ایس ای کے نماز کے کمرے میں موجود حجاب لیے ایک ایشیائی خاتون نے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہیں اپنے آپ کو دنیا کی نظر میں بے گناہ ثابت کرنا پڑے گا۔ ’ہم لوگ کیفےٹیریا میں کھانا کھا رہے تھے اور ٹی وی پر ٹیویسٹاک سکوائر میں بس کو دھماکے میں اڑتا ہوا دکھا رہے تھے۔ جیسے ہی میں نے یہ منظر دیکھا میں نے سر ہلا ہلا کر افسوس کا اظہار کرنا شروع کردیا۔ مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے کہ مجھے ثابت کرنا ہے کہ میں ان دھماکوں سے خوش نہیں ہوں اور ان کی حمایت نہیں کرتی۔ کیفیٹیریا میں بہت سے اور طالبعلم موجود تھے۔ وہ صرف ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ سر ہلا ہلا کر اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کر رہے تھے۔ میں کب تک صفائیاں پیش کرنے کے بارے میں سوچتی رہوں گی؟‘ ’سواس‘ کی اسلامی سوسائٹی کے صدر جمال الدین الشیال نے کہا کہ یونیورسٹی کیمپسیز میں ان دھماکوں کا ردِعمل ہوگا۔ برمنگھم یونیورسٹی میں پولیس اسلامی یونیورسٹی کے ارکان کا پتا معلوم کر رہی ہے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ ہم ایسے اقدامات کو پنپنے نہ دیں۔ مذہب کی طرف مائل طالبعلموں نے دھماکوں کی مذمت کی لیکن مسلمانوں کے خلاف نا انصافیوں کو ان دھماکوں کی وجہ قرار دیا اور ردِِعمل پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔ آزاد خیال مسلم طلبا نے بے گناہ شہریوں کے قتل پر تشویش ظاہر کی-انہوں نے مغربی حکومتوں کی پالیسیوں میں تبدیلی پر زور دیا اور کہا کہ مسلمان کمیونٹی کو بھی اپنے رویوں پر از سرِغور کرنے کی ضرورت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||