BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 August, 2005, 16:44 GMT 21:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی مسلم کیا سوچتے ہیں؟
برطانیہ کے نوجوان مسلمان
’ تمام نوجوان مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھا جانے لگا ہے‘
برطانیہ کے نوجوان مسلمانوں نے ذہنوں میں درحقیقت کیا خیالات پنپ رہے ہیں؟۔ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے ان افراد سے بات کی جو کہ حقیقتاً برطانیہ کی نوجوان مسلم نسل سے رابطے میں ہیں۔

مسلم یوتھ ہیلپ لائن ٹیلیفون اور ای میل کے ذ ریعے مشورہ فراہم کرنے والی ایک سروس ہے جس کا مقصد نوجوان مسلمانوں کی مدد کرنا ہے۔

2001 میں قائم شدہ اس ہیلپ لائن نے نوجوان مسلمانوں میں مذہب اور برطانیہ کی جدید زندگی کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

اس ہیلپ لائن کی ٹیلیفون لائنوں پر کام کرنے والے تمام رضاکار پچیس سال سے کم عمر کے ہیں اور اس عمل کا مقصد مدد طلب کرنے والے نوجوانوں کو ایک ایسا سامع مہیا کرنا ہے جو نہ صرف ان کا ہم عمر ہو بلکہ برطانیہ میں بطور مسلمان جوان ہونے والے افراد پر پڑنے والے سماجی دباؤ کو بھی سمجھتا ہو۔

اس ہیلپ لائن کو موصول ہونے والی کالوں میں سے ایک تہائی باہمی تعلقات سے متعلق اور ایک تہائی ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات پر مبنی ہوتی ہیں۔ صرف پانچ فیصد کالیں مذہب سے متعلق خیالات کے بارے میں ہوتی ہیں۔

مسلم یوتھ ہیلپ لائن کے سربراہ رضا جعفری کے مطابق ان کے ادارے کی جانب سے کی گئی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ برطانیہ کے نوجوانوں کو درپیش مسائل میں نسل پرستی، تعلیمی ناکامیاں، مسلم شناخت کا دہشت گردی سے جوڑا جانا، غیر مسلم ادادروں پر عدم اعتماد، برطانوی طرزِ زندگی اور روایات سے دوری اور بزرگ مسلم نسل کا نوجوان مسلم نسل کے شناختی بحران کو نہ سمجھنا شامل ہیں۔

رضا جعفری کا کہنا تھا کہ ’ دھماکوں کے بعد جو کالیں ہمیں موصول ہوتی ہیں ان سے ایسا لگتا ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام نوجوان مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھا جانے لگا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ حملہ مسلمان لڑکوں کے ایک ایسے گروہ نے کیا جو کہ دہشت گردی کی راہ پر چل رہا تھا‘۔

نوجوان مسلمانوں کے مسائل
برطانیہ کے نوجوانوں کو درپیش مسائل میں نسل پرستی، تعلیمی ناکامیاں، مسلم شناخت کا دہشت گردی سے جوڑا جانا، غیر مسلم ادادروں پر عدم اعتماد، برطانوی طرزِ زندگی اور روایات سے دوری اور بزرگ مسلم نسل کا نوجوان مسلم نسل کے شناختی بحران کو نہ سمجھنا شامل ہیں
رضا جعفری

رضا جعفری کا کہنا تھا کہ سات جولائی کے دھماکوں کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ان ان دھماکوں کے پیچھے کون ہے اور لندن میں رہنے والے نوجوان مسلمانوں نے حالات کو تبدیل ہوتے ہوئے محسوس کیا اور اس سے ان کے رویے میں جھنجھلاہٹ پیدا ہوئی۔

یاد رہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ نے بھی ان اقلیتی گروہوں کے لیے ایک ہیلپ لائن کا اجراء کیا ہے جنہیں دھماکوں کے بعد انتقامی کارروائی کا خدشہ ہے۔

لندن کی پولیس کے مطابق’ کمیونیٹیز ٹوگیدر‘ نامی اس ہیلپ لائن کا قمصد ان افراد کی مدد کرنا ہے جو موجودہ حالات میں اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں۔

لندن کے میئر کین لیونگسٹن کا کہنا تھا کہ یہ ہیلپ لائن لوگوں کے خدشات جاننے کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ لندن ایک شہر ہے اور اس میں ہم سب ایک ہیں اور اب یہ نہایت ضروری ہے کہ لندن کے شہری اپنے شہر میں خود کو محفوظ تصور کریں‘۔

66شناخت کا ادراک
لنکن شائر میں برطانوی مسلمانوں کا اجتماع
66برطانیہ کی مساجد
برطانیہ میں ایک ہزار سے زائد مساجد ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد