برطانیہ میں مساجد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں عیسائیت کے بعد اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے جہاں ایک محتاط اندازے کے مطابق اسوقت مسلمانوں کی تعداد تین ملین کے لگ بھگ ہے جو کُل آبادی کے چار فیصد سے زیادہ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی اور پھرمشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، بنگہ دیش، بھارت،ملائیشیا،نائجیریا،ترکی، صومالیہ، افغانستان، کُرد اور بوسنیا وغیرہ کے مسلمانوں کی ہے۔ اسی تعداد کے تناسب سے مسلمانوں کے مختلف مسالک کی مساجد کی تعداد برطانیہ بھر میں ایک ہزار سے زائد ہونا کوئی ایسی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ برطانیہ میں اولیں مسلمانوں کی آمد اور اسلام کا یہاں فروغ ایک الگ موضوع ہے لیکن یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ برطانیہ میں اسلام کے ڈانڈے
اسی طرح آئرلینڈ کے جنوبی ساحل پر 9ویں صدی کی دریافت کی جانے والی ایک قدیم صلیب کے وسط میں شیشے کے موتیوں کے ساتھ عربی میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے الفاظ لکھے ہیں۔ انڈیا آفس لائبریری میں تارکین وطن کے قدیم ریکارڈ سے یہ واضع تونہیں ہوتا کہ پہلا مسلمان کب برطانیہ میں آیا لیکن اتنا عیاں ہے کہ نویں اور دسویں صدی کے درمیان یمن کے کچھ مسلمان یہاں مقیم تھے ۔ تحقیق کے مطابق برطانیہ میں سب سے پہلی مسجد ویلز کے شہر کارڈیف میں 1860 میں بنی تھی جس کے اب کوئی آثار موجود نہیں جبکہ ایک اور مسجد 1887 میں ماؤنٹ وارنر سٹریٹ لیورپول میں قائم ہوئی تھی جسکو بعد میں موجودہ رجسٹری آفس کے مقام بروہم پٹرس منتقل کر دیا گیا تھا جہاں 1908 تک یہ مسجد کے طور پر رہی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام اور پھر 1869 میں نہر سویز کے کھلنے سےیمن اور دیگر اسلامی ممالک سے لوگوں کی برطانیہ آمد میں اضافہ ہوا جنکی دینی اور مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ووکنگ کی ،،شاہ جہان مسجد،، کا قیام عمل میں آیا۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں خالصتاً عبادت کے لیے بنائی جانے والی اس پہلی اور قدیم ترین مسجدکا اولیں خیال ہنگری کے دانشور لیٹنر (1840تا1899) کو آیا تھاجس نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ووکنگ میں رائل ڈرامٹیک کالج کھولا جو 1877 میں بند ہو گیا اور پھر 1889 میں لیٹنر نےیہیں یہ مسجد بنوائی جو بعد میں خستہ حالت ہونے کی وجہ سے بند ہوگئی۔ حکومت نے جب اس مسجد کو بیچنا چاہا تو1912 میں بھارت کے بیرسٹر خواجہ کمال الدین نے برطانیہ آ کر اسکی ملکیت کا مقدمہ جیتا اور مرمت کے بعد اسے نماز کے لیے کھولا گیا اور عبادت کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔
اس کا نام ،،شاہ جہان مسجد،، رکھنے کی وجہ اسکی تعمیرکاغالب خرچ بھوپال کی مہارانی شاہ جہان کا ادا کرنا ہے۔ برطانیہ میں اسوقت شاید ہی کوئی علاقہ مسجد کے بغیر ہو اور بڑی تعداد میں جن شہروں میں مساجد تعمیر ہوئی ہیں اُن میں لندن کے علاوہ برمنگھم، گلاسگو، بریڈفورڈ،لنکاشائر،شفیلڈ،آکسفورڈ،نوٹنگھم، لیورپول، برسٹل، اغلباً برطانیہ بھر میں سب سے زیادہ 200 کے قریب مساجد لندن اور برمنگھم میں ہیں۔لندن میں یہ مساجد ہانسلو، ساؤتھ آل،ویمبلے،ھیرو،ٹوٹنگ، کرائیڈن، برنٹ، بالھم،ومبلڈن، بارکنگ،فنزبری پارک،والتھم سٹو،فنچلے،شیپرڈبُش،ہالینڈ پارک لند ن کی پہلی مسجد 1880 کے عشرے کے اوائل میں نوٹنگ ہل گیٹ میں بنی تھی جسے دوسری جنگ عظیم میں بند کر دیا گیا تھا لیکن لندن ہی میں ہانسلو اور ساؤتھ آل کی جامع مساجد،سٹوک نیوانگٹن روز کی ترکوں کی قدیم ترین اسکی تعمیر کا پہلا خیال 1916 میں اسلام قبول کرنے والے لاڑد ھیڈلے نے پیش کیا تھا اور اسکی منظوری بعد میں 24 اکتوبر 1940 کو وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے دی تھی اور زمین خریدنے کے لیے حکومت نے ایک لاکھ پاؤنڈ مختص کیے تھے۔حکومت کی طرف سے اس عطیے کا مقصد سلطنت برطانیہ کے لیے جان دینے والے مسلمانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا۔ 1944 میں ڈھائی ایکڑ پر بننے والے ریجنٹ پارک کے اس اسلامی مرکز کا افتتاح شاہ جارج ششم نے کیا جس کے بعد 1974 کے اوائل میں مسجد اور لائبریری کی تعمیر شروع ہو کر 1977 میں مکمل ہوئی اور پھر 1994 میں اسمیں تعلیمی اور انتظامی شعبے شامل ہوئے۔
چھ اعشاریہ پانچ ملین پاؤنڈ سے زیادہ کی رقعم سے تعمیر ہونے والی 25 میٹر قُطر کے سنہرے گنبد والی اس مسجد میں بیک وقت ساڑھے چار ہزار سے پانچ ہزار تک لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں۔ برطانیہ میں ایک اور معروف مسجد مشرقی لندن میں وائٹ چیپل روڈ پر واقع ہے جسکا موجودہ صورت میں افتتاح 12 جولائی 1985 میں ہوا تھا اور اسکے دو بڑے ہال کمروں میں بیک وقت تین ہزار سے زیادہ لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ یہ شاید برطانیہ کی واحد مسجد ہے جہاں سے اذان لاؤڈ سپیکر پر دی جاتی ہے۔ اسکی اولیں صورت 1910 میں اسوقت سامنے آئی تھی جب یہاں کے لوگوں نے کرائے کے ایک کمرے میں نماز کا اہتمام کیا اور بعد میں لوگوں کے چندے سے1940 میں کمرشل روڈ پر تین گھر خرید کر انہیں مسجد میں تبدیل کیا گیا جسکا افتتاح 1941 میں حسین سہروردی نے کیا۔
1975 میں گریٹر لندن کونسل نے لازمی ایکٹ کے تحت یہ جگہ لے لی اور نماز کے لیے عارضی جگہ دی اور بعد میں وائٹ چیپل روڈ پر متبادل جگہ فراہم کی جس مقام پر 1985 میں موجودہ مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔ برطانیہ میں لندن کے بعد سب سے زیادہ مساجد لنکاشائر اور برمنگھم میں ہیں۔لنکا شائر میں زیادہ مساجد برنلے،پرسٹن اور بلیک پول میں ہیں جبکہ سب سے زیادہ 35 مساجد بلیک برن کے علاقے میں ہیں۔ مڈلینڈ کے علاقے میں بڑی چھوٹی کم و بیش دو سو مساجدبرمنگھم میں ہیں جن میں برمنگھم کی قدیم مرکزی مسجد کے علاوہ مسجدِ نور،مدینہ مسجد،صدام مسجد۔حمزہ مسجد اور گھمگول شریف کی مساجد زیادہ نمایاں ہیں۔ برمنگھم کی مرکزی مسجد ترکی کے بعد رقبے میں یورپ کی سب سے بڑی مسجد بتائی جاتی ہے جس میں بیک وقت5 ہزار سے 6 ہزار تک لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں۔اسکی تعمیر کے لیے عطیات جمع کرنے کاکام ساٹھ کے عشرے میں شروع ہوا تھا اور 1975 میں باقاعدہ طور پر اسے نمازیوں کے لیے کھول دیا گیا۔اس مسجد کی تعمیر کی ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ اسکی تعمیر کے لیے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم افراد نے بھی دل کھول کر عطیات دیے تھے۔
برطانیہ بھر میں ایک ہزار سے زائد مساجدمیں لگ بھگ تمام مسالک کی مساجد شامل ہیں جن میں لندن میں نارتھ اولٹ کے علاقے میں لاکھوں پاؤنڈ کی لاگت سے تعمیر ہونے والی داؤدی بوہرہ مسلک کی یورپ کی سب سے بڑی مسجد بھی شامل ہے جس کا افتتاح 1996 میں شہزادہ چارلس نے کیا تھا۔ اس سب کے باوجود کہ برطانیہ بھر میں اتنی بڑی تعداد میں مساجد موجود ہیں لیکن تحقیقی کام کرنے والے افراد کے لیے اعداد وشمار اور مصدقہ معلومات فراہم کرنے کا کوئی مرکزی ادارہ یا تنظیم فعال طور پر مصروف عمل نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||