مسلمانوں کےحقوق بتاتا کتابچہ جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلمانوں کو انکے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کی غرض سے برطانیہ میں ایک کتابچہ شائع کیا گیا ہے۔ جس کی پانچ لاکھ کاپیاں برطانوی مسلمانوں کےگھروں میں بانٹی جارہی ہیں۔ مسلم کونسل آف برٹن ( ایم سی بی ) یعنی برطانوی مسلمانوں کی کونسل کے مطابق مسلمانوں کو اپنے حقوق کی حفاظت کرنی چاہیے اور ایک سرگرم شہری کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے اس کتابچے کی اشاعت کا خیر مقدم کیا ہے جب کہ کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ یہ کتابچہ فائدے سے زیادہ نقصان پہنچائے گا۔ سولہ صفحات پر مشتمل اس کتابچے کا عنوان ’ اپنے حقوق اور ذمہ داریاں جانیے‘ ہے۔ اس کتابچہ میں مسلمانوں کو مختلف قسم کے مشورے دیئے گئے ہیں۔ جیسے کہ پولیس روکے یا گرفتار کرے تو کیا کرنا چاہیے ۔ اسکولوں میں کس طرح اپنا کردار نبھایا جائے اور یہ اصرار کہ مسلمانوں کو سیاست میں شامل ہونا چاہیے۔ یہ کتابچہ میڈیا میں شائع ہونے والی غلط خبروں کی تردید کرنے کے طریقے بھی بتاتا ہے۔ اس گائیڈ میں دہشت گردی کے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے وہ فون نمبر بھی فراہم کیے گئے ہیں جن پر انسداد دہشت گردی پولیس سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ قرانی آیتوں کے حوالے سے برطانیہ کو دہشت گردوں کے حملوں سے بچانے کو عین اسلامی فرض ثابت کیا گیا ہے۔ اس کتابچے کا باقاعدہ اجراء سنیچر کو مشرقی لندن کے لندن مسلم سینٹر میں ہوا۔ ایم سی بی کے ایک ترجمان عنایت بنگلہ والا نے کہا ’ ہمیں یہ خیال میڈرڈ بم دھماکوں کے بعد ہی آیا تھا اور ہم نے اس سلسلے میں مسجدوں کو خطوط بھی لکھے تھے لیکن ہم نے سوچا کہ ہمیں گھر گھر پہنچنا چاہیے۔ اس موقعہ پر وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے بتایا ’ سماج میں سب کو مل جل کر اور ساجھے داری کے ساتھ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا ‘۔ اس کتابچہ کا ایک چوتھائی حصہ ملک کی حفاظتی خدمات کی نشاندہی اور تفصیلات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اس میں مسلمانوں کو روکے جانے، ان کی تلاشی لیے جانے اور ہوائی اڈے پر روک کرسوالات کیے جانے کی صورت میں اور گھر میں پولیس کی آمد پر بھی رویے اور طریقوں کے بارے میں بھی رہنمائی کی گئی ہے۔ اس کتابچہ میں ملازمت کے حقوق، مذہبی اور نسلی تعصب کی نشاندہی اور اس کی مزاحمت وغیرہ کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کتابچہ کا اردو، عربی، بنگالی اور ترکی زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جائےگا۔ اس موقعہ پر برطانیہ کے وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ نے کہا ’ اس سماج میں مختلف مذہب اور عقیدے کے لوگوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کے احساس کے ساتھ، ریاستی شعبوں اور عوامی حقوق و فرائض کو سمجھ کر در پیش آنے والے تمام سماجی مسائل کو مل جل کر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ‘۔ ڈیوڈ بلنکٹ نے مزید کہا ’مذہبی شدت پسندی میں ملوث لوگ اقلیت میں ہوتے ہیں اور وہ جس قوم سے بھی تعلق رکھتے ہیں اس کی نمائندگی وہ ہرگز نہیں کرتے ہم سب کو ان کے ایسے غلط دعووں کی تردید کرنی چاہیے۔ اور اسی لیے میں اس کتابچہ کو مفید و مددگار سمجھتا ہوں اور گرم جوشی سے اس کا خیر مقدم کرتا ہوں ‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||