برطانوی مسلمانوں کی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم کونسل آف بریٹن نے ایک خط جاری کیا ہے اور جس سے برطانوی مسلمانوں کی اس فکرمندی کا اظہار ہوتا ہے کہ ان کو بھی انتہاپسندی کی ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا جائے گا۔ گو یہ خط میڈرڈ کے بم دھماکوں کے بعد لکھا گیا ہے لیکن گزشتہ روز عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کے الزام میں آٹھ مسلمانوں کی گرفتاری کے بعد اس کا اجراء بہت ہی اہم وقت پر ہے۔ خط میں مسلمانوں سے مشتبہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے ہوشیار رہنے اور حکام کی مدد کرنے کو کہا گیا ہے۔کونسل کے سربراہ اقبال ساکرانی کہتے ہیں۔ گیارہ ستمبر سن دو ہزار کے حملوں اور خصوصاً میڈرڈ کے بم حملوں کے بعد اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان غیرانسانی اور وحشیانہ واقعات کو قرآنی اور اسلامی تعلیمات سے جوڑ دیا جائے۔ ان کوششوں سے اسلام اور مسلمانوں کو برا بنا کر پیش کرنے کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ انسداد دہشت گردی سے متعلق پولیس نے کونسل کے خط کی تعریف کی ہے کیونکہ گزشتہ روز کی گرفتاریوں کے بعد مسلمانوں کی جانب سے ردعمل متوقع تھا۔
ایک پریس کانفرنس میں ایک سینئیر پولیس افسر نے زور دیا کہ برطانوی مسلمانوں کی بھاری اکثریت تشدد کو رد کرتی ہے اور قانون کی پابند ہے۔لیکن کونسل کے عہدیداروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ذرائع ابلاغ پہلے ہی نتائج اخذ کرنا شروع کرچکے ہیں۔ انہوں نے بعض اخبارات میں ’اسلامی بم حملہ ناکام بنادیا گیا‘ جیسی سرخیوں کی جانب اشارہ کیا کہ ان سے خطرناک مفروضے قائم کیے گئے ہیں۔ برطانیہ میں دو ملین مسلمان ہیں اور ان کی اکثریت بعض دوسری چیزوں کے علاوہ بلئیر حکومت کی جانب سے جنگ عراق کی حمایت کی بھی مخالف ہے۔ ان میں اس بات پر بھی خاصا غصہ اور خدشات پائےجاتے ہیں کہ محض چند لوگوں کی جانب سے پرتشدد کاروائیوں کو پوری برادری کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ دراصل گزشتہ روز کی گرفتاریوں اور ان کی تشہیر نے بہت سے پریشان کن سوالات کو جنم دیا ہے۔ برطانوی پولیس نے گرفتار شدگان کو ابھی تک القاعدہ یا کسی بھی اور انتہا پسند گروہ سے منسلک نہیں کیا ہے۔ پولیس نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ان افراد کی کئی ماہ سے نگرانی کی جارہی تھی اور ان کے خیال میں گرفتاریوں سے ایک بڑے حملے کو ناکام بنادیاگیا ہے۔ میڈرڈ بم حملے کے محض تین ہفتے بعد ان گرفتاریوں سے ان قیاس آرائیوں کو بھی تقویت ملی ہے کہ آیا القاعدہ اور اس سے منسلک گروپوں کا ہدف کیا اب یورپ ہے۔
یہ بات تو کافی عرصے سے معلوم تھی کہ مغربی یورپ میں القاعدہ کے سیل موجود ہیں اور یہ ہیبرگ میں القاعدہ کا سیل ہی تھا جس نے گیارہ ستمبر کے حملوں کا انتظام کیا تھا۔ گیارہ ستمبر کے بعد سے اب تک یورپی انٹیلی جنس اداروں نے القاعدہ کے بہت سے مشتبہ ارکان کو گرفتار کیا ہے جن میں سے بہت سے شمالی افریقی نژاد تھے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ انتہا پسند گروپ برطانوی شہریوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گزشتہ سال دو برطانوی شہریوں نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ایک خودکش حملہ بھی کیا تھا۔ تازہ ترین گرفتاریوں کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد کو کسی انتہا پسند گروپ نے بھرتی نہیں کیا تھا اور یہ لوگ اکیلے ہی کام کررہے تھے۔ اسی طرح گرفتار ہونے والوں اور میڈرڈ کے بم حملے کے ذمہ داروں میں بھی بظاہر کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن پولیس کو یہ یقین ضرور ہے کہ وہ ایک نئی اور خطرناک پیش رفت کا سامنا کررہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||