BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 January, 2004, 04:57 GMT 09:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خوف زدہ عوام، بے حِس کانگرس‘
قانونی حراست میں
حراست میں لئے جانے والے زیادہ تر مسلمان تھے

امریکی شہری آزادی کی یونین ، اے سی ایل یو، نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کی واردات کے بعد خوفزدہ عوام اور بے حِس کانگریس نے سینکڑوں افراد کو حراست میں لینے کی اجازت دے دی جن میں زیادہ تر مسلمان تھے ۔

شکایت نامے میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے تارکین وطن کو گھیر گھیر کے پکڑ لیا اور مہینوں انہیں حراست میں رکھا جبکہ نہ انہیں کسی وکیل تک رسائی تھی نہ ہی اپنے گھر والوں تک۔

شہری آزادی کی یونین کے الزام کے مطابق امریکی حکام نے لوگوں کو حراست میں لینے کے لۓ نسل اور مذہب کو بہانہ بنایا جو حقوق انسانی کے اس بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس پر امریکہ دستخط کرچکا ہے۔

یونین کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ان زیر حراست لوگوں کو ان کی منشا کے بغیر ان کے اصل ملکوں میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

شہری آزادی کی یونین کی یہ شکایت حقوق انسانی کے کئی گروپوں کی شکایات کے عین مطابق ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ بین الاقوامی قانون کی جڑیں کاٹ رہی ہے۔

اس شکایت کی سماعت من مانی حراستوں کا جـائزہ لینے کا ذمہ دار اقوام متحدہ کا گروپ کرے گا جو اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کو براہ راست رپورٹ پیش کرتا ہے ۔

امریکہ کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد اس کے تمام اقدامات قومی سلامتی کے پیش نظر جائز تھے ۔ اسے نوے دن کے اندر شکایت کا جواب دیناہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد