BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 November, 2003, 00:15 GMT 05:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سات ارب ڈالر بھی، سزا کا فیصلہ بھی
فرانس کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ فرانس اپنی اقدار کا دفاع کرے گا

فرانس کے صدر ژاک شیراک نے ملک کے ان مختلف شہروں میں جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے، سات ارب ڈالر کے ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

فرانس کے صدر نے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا ہے کہ یہودیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

فرانسیسی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں مسلمانوں کے علاقوں میں سات ارب ڈالر کے ترقیاتی پروگرام شروع کرنے کےاس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں رہنے والے مسلمان نوجوانوں میں نامساعد حالات اور غربت کے باعث یہودیوں کے خلاف ایک ردِ عمل پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہودیوں کے خلاف مختلف کارروائیاں ہوئی ہیں۔

صدر شیراک نے کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد اخبار نویسوں کو بتایا: ’کہ جب فرانس میں کسی یہودی پر حملہ ہوتا ہے تو یہ پورے فرانس پر حملے کے برابر ہے۔‘

صورتِ حال پر قابو پانے کے اقدامات تجویز کرنے کے لئے فرانس کے وزیرِ اعظم جین پیری رفارن کو ایک کمیٹی کی قیادت سونپی گئی ہے جو یہودیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں سے نمٹے گی۔

فرانسیسی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ ہوا کرے گا۔

گزشتہ تین برس کے دوران فرانس کے کئی شہروں میں یہودیوں پر منہ زبانی یا جسمانی حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

سکول پر بم حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا
فرانس مغربی یورپ کا واحد ملک ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد پچاس لاکھ کے قریب ہے

فرانسیسی وزیرِ اعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ وہ پورے ملک میں یہودیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا ریکارڈ تیار کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہودیوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والوں یا نسلی منافرت کے مرتکب افراد کو سخت جرمانے کیے جائیں گے۔

کابینہ کے خصوصی اجلاس سے قبل ایک واقعہ میں پیرس کے شمال میں واقع شہر گیگنی کے ایک سکول میں بم پھینکا گیا جس سے وہاں آگ لگ گئی۔

وزیرِ داخلہ نکولیس سارکوزی نے کہا ہے کہ ہفتے کو ہونے والے اس واقعہ کے در پردہ یقیناً نسلی تعصب اور یہودیوں سے منافرت ہے۔

یہودیوں پر حملوں کا سبب فرانس میں نوجوان مسلمانوں کا اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف سخت قسم کی پالیسیوں پر غصے کا اظہار ہے۔

فرانسیسی صدر نے کابینہ کے اجلاس کے بعد یہودی رہنماؤں سے مذاکرات بھی کیے اور انہیں یقین دلایا کہ یہودی سکول میں آتشزنی کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے گی۔

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ سکول کے واقعہ کے بعد حکومت کا فوری ردِ عمل در اصل یہودیوں کے ان الزامات کا ایک جواب ہے کہ یہودیوں پر حملے اس لئے ہو رہے ہیں کہ فرانس کا مقتدر طبقہ یہودیوں کے خلاف ہے۔

تاہم فرانس میں بسنے والے یہودی ایسا نہیں کہتے گو وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں اپنی برادری کے خلاف تشدد کے واقعات پر تشویش ہے۔

مغربی یورپ میں فرانس ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ یعنی تقریباً چھ لاکھ یہودی رہتے ہیں جبکہ یہاں مسلمانوں کی تعداد پچاس لاکھ ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد