BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 July, 2005, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لنکن شائر میں مسلم فسٹیول

News image
اجتماع کا بنیادی سوال اپنی شناخت کا مکمل ادراک ہے
کئی ہزار برطانوی مسلمان لنکن شائر کے دیہی علاقے میں ہونے والے سالانہ فیسٹیول میں شریک ہو رہے ہیں۔

بڑی عمر کے شرکاء عبادات میں مصروف ہیں جبکہ بچوں کی تفریح کے لیے وہاں کھیلوں کا سامان مہیا کیاگیا ہے۔

نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے خود کو مصروف رکھنے کے لیے فٹ بال ٹیمیں بنائی ہوئی ہیں اور ایک کے ایک دوستانہ میچ ہو رہے ہیں۔

اجتماع کے میدان میں اسلامی لٹریچر سے لیکر کافی، کیک تک ہر چیز کے سٹال موجود ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ ’دِس اِز لِونگ اِسلام‘ نامی یہ فیسٹیول برطانیہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا فیملی اجتماع ہے۔

اس چار روزہ اجتماع میں برمنگھم، مانچسٹر، گلاسگو، لندن اور دیگر برطانوی شہروں سے آئے ہوئے مسلمان خاندان شریک ہیں جو لنکن شائر شوگراؤنڈ کے کھلے میدان میں خیمہ زن ہیں۔

اگرچہ اسلامک سوسائٹی آف برٹین نے فیسٹیول کی تیاریاں لندن بم دھماکوں سے بہت پہلے شروع کر دی تھیں لیکن لندن میں ہونے والے واقعات کے بعد اجتماع نے اور زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے۔

فیسٹیول کے آرگنائزر جیفری بِیرے کے مطابق برطانیہ کی مسلمان برادری کو اس وقت ایسے اجتماع کی شدید ضرورت تھی۔

’وقت آ گیا ہے کہ ہر مسلمان کو اپنی شناخت کا مکمل ادراک ہو۔ اسلام سولہ لاکھ برطانوی شہریوں کا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کو نفرت کے اس پیغام سے چیلنج کا سامنا ہے جو لندن میں ہونے والے دھماکوں کے پیچھے کارفرما تھا۔

اجتماع میں بار بار شرکاء کو اس بات کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ بم دھماکوں کے حامی بہت اقلیت میں ہیں۔

لیکن برمنگھم سے آئے ہوئے کمیونٹی ورکر فراز یوسفزئی کو شدت سے اس بات احساس کا تھا کہ برطانوی مسلمانوں کو اپنے معاملات کُھلے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ’ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ ہمارے درمیان بھی انتہا پسند موجود ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ بیگانگی کے شکار اسلام کے نام پر تشدد پر آمادہ مسلمان نوجوان کو کیا پیغام دینا پسند کریں گے تو انہوں نے کہا کہ میں اُسے کہوں گا کہ ’برادر! جنت حاصل کرنے کا کوئی شارٹ کٹ طریقے نہیں ہے‘۔

66انٹیلیجنس کی ناکامی
اسامہ نے برطانوی اداروں کو پردہ فراہم کر دیا
66مشتبہ حملہ آور کون؟
21 جولائی کے مشتبہ حملہ آور کون ہیں؟
66مشتبہ لندن بمبار
یاسین عمر انیس سو بانوے میں لندن آیا تھا
66سیاست اور مذہب
صدر مشرف کے اقدامات پر علی احمد خان کا کالم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد