لنکن شائر میں مسلم فسٹیول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی ہزار برطانوی مسلمان لنکن شائر کے دیہی علاقے میں ہونے والے سالانہ فیسٹیول میں شریک ہو رہے ہیں۔ بڑی عمر کے شرکاء عبادات میں مصروف ہیں جبکہ بچوں کی تفریح کے لیے وہاں کھیلوں کا سامان مہیا کیاگیا ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے خود کو مصروف رکھنے کے لیے فٹ بال ٹیمیں بنائی ہوئی ہیں اور ایک کے ایک دوستانہ میچ ہو رہے ہیں۔ اجتماع کے میدان میں اسلامی لٹریچر سے لیکر کافی، کیک تک ہر چیز کے سٹال موجود ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ’دِس اِز لِونگ اِسلام‘ نامی یہ فیسٹیول برطانیہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا فیملی اجتماع ہے۔ اس چار روزہ اجتماع میں برمنگھم، مانچسٹر، گلاسگو، لندن اور دیگر برطانوی شہروں سے آئے ہوئے مسلمان خاندان شریک ہیں جو لنکن شائر شوگراؤنڈ کے کھلے میدان میں خیمہ زن ہیں۔ اگرچہ اسلامک سوسائٹی آف برٹین نے فیسٹیول کی تیاریاں لندن بم دھماکوں سے بہت پہلے شروع کر دی تھیں لیکن لندن میں ہونے والے واقعات کے بعد اجتماع نے اور زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے۔ فیسٹیول کے آرگنائزر جیفری بِیرے کے مطابق برطانیہ کی مسلمان برادری کو اس وقت ایسے اجتماع کی شدید ضرورت تھی۔ ’وقت آ گیا ہے کہ ہر مسلمان کو اپنی شناخت کا مکمل ادراک ہو۔ اسلام سولہ لاکھ برطانوی شہریوں کا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کو نفرت کے اس پیغام سے چیلنج کا سامنا ہے جو لندن میں ہونے والے دھماکوں کے پیچھے کارفرما تھا۔ اجتماع میں بار بار شرکاء کو اس بات کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ بم دھماکوں کے حامی بہت اقلیت میں ہیں۔ لیکن برمنگھم سے آئے ہوئے کمیونٹی ورکر فراز یوسفزئی کو شدت سے اس بات احساس کا تھا کہ برطانوی مسلمانوں کو اپنے معاملات کُھلے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ’ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ ہمارے درمیان بھی انتہا پسند موجود ہیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ بیگانگی کے شکار اسلام کے نام پر تشدد پر آمادہ مسلمان نوجوان کو کیا پیغام دینا پسند کریں گے تو انہوں نے کہا کہ میں اُسے کہوں گا کہ ’برادر! جنت حاصل کرنے کا کوئی شارٹ کٹ طریقے نہیں ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||