اسامہ بن لادن اور برطانوی انٹیلیجنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سویت یونین اور اشتراکیت کے خلاف مغرب کی تمام نظریاتی کامیابی ایک اسامہ بن لادن نام میں سمٹ چکی ہے اور اس ایک نام نے مغرب کی تہذیب اور تصورات کو ایک ایسے سوال میں تبدیل کر دیا ہے جس کا جواب اب تک مغرب کے پاس نہیں ہے۔ اس وقت جو اسامہ بن لادن مغرب اور خاص طور پر برطانیہ میں ہے اس کی صورت گری بھی مغربی ذرائع ابلاغ ہی نے کی ہے حالانکہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ہے، ہے تو کس حال میں ہے، کہاں ہے اور اب تک کیسے ہے اور اگر وہ حقیقت نہیں تو اس کے تصور کو کیوں مسلسل ابھارا جا رہا ہے؟ اسامہ، اسامہ کیسے بنا؟ اس میں اسی کی دہائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے بارے میں امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسی کا کتنا ہاتھ ہے؟ یہ ایک الگ اور اہم سوال ہے کیونکہ اسی کے نتیجے میں اسلامی درسگاہوں کی کوکھ سے مدرسہ ازم پیدا ہوا اور اسی کے نتیجے ہی میں اسلام کے ایک لازمی لیکن فراموش رکن جہاد نے ایک جنگجویانہ شکل اختیار کی۔ ورنہ تو اس اصطلاح نے علم کے پھیلاؤ، انسانیت اور جمہوریت کے لیے جدوجہد یہاں تک کہ قناعت یعنی شرافت اور جائز آمدنی میں گزارا کرنے پر یقین رکھنے اور عمل کرنے کا نام بننا شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد کے جو کچھ ہوا اس کی کئی بار دہرائی گئی تفصیل میں جائے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغربی سیاستدانوں نے اس پر توجہ نہیں دی کہ وہ سوشلزم سے لڑنے کی کوشش میں اسلامی بنیاد پرستی کی تجدید اور احیاء کی تائید کر رہے ہیں۔ مغرب میں سرمایہ داری کے حامی اور اشتراکیت کے مخالف مفکرین، سیاستدانوں، دانشوروں اور صحافیوں میں شاید ہی کوئی ہو گا جس نے اس وقت جہاد کو ایک حیرت انگیز تصور قرار دینے اور اختیار کرنے کا مشورہ دینے کا جھوٹ نہ بولا ہو۔ لیکن یہ سٹریٹیجک جھوٹ اسی بنیاد پرستی کا احیاء کے سوا کیا تھا جسے ہندوستان پر راج کے دوران فراموش کرانے کی بھر پور کوششیں کی گئی تھیں۔لیکن جب تک اس جھوٹ کی ضرورت ختم ہوتی وہ ایک سچ کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ یہ برطانیہ میں 7/7 کے واقعات میں مسلمانوں اور پاکستانی نژاد نوجوانوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی صورتِ حال کا پس منظر ہے اور اسے فراموش کر کے مسئلے کو سمجھنے اور حل کرنے کی جو بھی کوشش کی جائے گی وہ آسانی سے کامیاب نہیں ہو گی۔ لیکن برطانیہ میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ انسان کی بہت بڑی تہذیبی پسپائی ہو گی اگر برطانیہ میں بھی وہی طریقے اور قانون بنائے جانے لگیں جو پاکستان اور اس جیسے ان ملکوں میں ہیں جہاں شہریوں پر غیر محب وطن ہونے کا شک کیا جاتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں اور پاکستان سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کے بارے میں بات کرنے والوں کو کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے اس بات کو ضرور رکھا جانا چاہیے۔ برطانیہ میں مسلمان کب سے ہیں اور کتنے ہیں؟ مجموعی طور پر مختلف النوع جرائم میں ملوث افراد میں مسلمانوں کی تعداد کا تناسب کیا ہے اور گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اس میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہ کس طرح کی ہے؟ مسلمان بچوں میں سکول نہ جانے، او لیول اور پھر اے لیول سے آگے نہ پڑھنے کا رحجان دوسرے مذاہب کے مقابلے میں کیسا ہے؟ سکولوں میں مسلمان بچوں کا رویہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں اساتذہ سے کیسا ہے؟ مسلمان نوجوان تعلیم کے بعد زیادہ تر کن پیشوں میں جاتے ہیں اور وہاں انہیں کیسے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ یہ چند باتیں انتہائی ضروری ہیں کیونکہ اس وقت ایسے مبصرین کی تعداد کچھ کم نہیں ہے جن کی باتوں کو سن کر یہ لگتا ہے کہ برطانوی معاشرہ نسل پرستی، رنگ اور ان دوسرے تضادات سے پاک نہیں ہو سکا جو پسماندہ اور غیر مہذب معاشروں میں پائے جاتے ہیں۔ مغرب میں خاص طور پر برطانوی معاشرہ جمہوری ہونے، اظہار کی آزادی رکھنے اور قوتِ برداشت و تحمل سے مسائل حل کرنے کی مثال تصور کیا جاتا ہے۔ لندن میں 7/7 کے بعد جو کچھ سامنے آیا ہے اس سے ایک بات یقینی طور پر سامنے آئی ہے برطانوی انٹیلیجنس ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں اور شاید اس ناکامی اسی حد تک رکھ کر سمجھنے کی بجائے بن لادن کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو نہیں ہونی چاہیے۔ مسلح اور عام لباس میں ملبوس پولیس کو عدالتی اختیار دینے کی حکمتِ عملی کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئی اور لندن نے ایک بار پھر اس کی تصدیق کر دی ہے۔ جن پولیس والوں کو یہ اختیار دیے گئے ہیں انہیں اس طرح کی صورتِ حال سے نمٹنے کا کتنا تجربہ ہے۔ ظاہر ہے برطانیہ کا تو ہو نہیں سکتا کیونکہ برطانیہ کو پہلی بار اس طرح کے حالات کا سامنا ہے اور اگر انہیں تجربہ کار بنانے کا بھی تجربہ کیا جا رہا تو یہ بڑی حد تک ممکنہ قتل میں با ارادہ شمولیت کے مترادف ہے۔ سٹاک ویل میں رونما ہونے والی مہلک غلطی کے بعد ذرائع ابلاغ کو یہ بتایا جانا، اس بیگناہ برازیلی شہری کی ہلاکت سے بھی کہیں بڑی غلطی تھا کہ ’ہلاک ہونے والا بظاہر ایشیائی ہے‘۔ ذرائع ابلاغ کو یہ اطلاع فراہم کرنے اور اس کے بر وقت تردید نہ کرنے والوں کا بھی احتساب کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ صریحاً اشتعال انگیزی کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی ایشیائی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ اگر زبان کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے گریز نہ کیا گیا تو یہ اسامہ بن لادن کو طاقت فراہم کرنے کی کوشش ہو گا۔ چاہے وہ حقیقت ہو یا تصور؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||