BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 July, 2005, 14:29 GMT 19:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ بن لادن اور برطانوی انٹیلیجنس

News image
دنیا بھر میں شدت پسندی کی لہر کے پیچھے امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسی کا ہاتھ ہے
سویت یونین اور اشتراکیت کے خلاف مغرب کی تمام نظریاتی کامیابی ایک اسامہ بن لادن نام میں سمٹ چکی ہے اور اس ایک نام نے مغرب کی تہذیب اور تصورات کو ایک ایسے سوال میں تبدیل کر دیا ہے جس کا جواب اب تک مغرب کے پاس نہیں ہے۔

اس وقت جو اسامہ بن لادن مغرب اور خاص طور پر برطانیہ میں ہے اس کی صورت گری بھی مغربی ذرائع ابلاغ ہی نے کی ہے حالانکہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ہے، ہے تو کس حال میں ہے، کہاں ہے اور اب تک کیسے ہے اور اگر وہ حقیقت نہیں تو اس کے تصور کو کیوں مسلسل ابھارا جا رہا ہے؟

اسامہ، اسامہ کیسے بنا؟ اس میں اسی کی دہائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے بارے میں امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسی کا کتنا ہاتھ ہے؟ یہ ایک الگ اور اہم سوال ہے کیونکہ اسی کے نتیجے میں اسلامی درسگاہوں کی کوکھ سے مدرسہ ازم پیدا ہوا اور اسی کے نتیجے ہی میں اسلام کے ایک لازمی لیکن فراموش رکن جہاد نے ایک جنگجویانہ شکل اختیار کی۔ ورنہ تو اس اصطلاح نے علم کے پھیلاؤ، انسانیت اور جمہوریت کے لیے جدوجہد یہاں تک کہ قناعت یعنی شرافت اور جائز آمدنی میں گزارا کرنے پر یقین رکھنے اور عمل کرنے کا نام بننا شروع کر دیا تھا۔

 امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں اسلامی درسگاہوں کی کوکھ سے مدرسہ ازم پیدا ہوا اور اسی کے نتیجے ہی میں اسلام کے ایک لازمی لیکن فراموش رکن جہاد نے ایک جنگجویانہ شکل اختیار کی
اس تناظر کا سب سے اہم مرکز پاکستان ہے اور ساتویں دہائی تک پاکستان میں اسلام اور مذہب کے سیاسی کردار پر لوگوں کا یقین کیسا تھا اس کا اندازہ ستر کے انتخابی نتائج کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ اس وقت مغربی حصہ اور اب کے پاکستان نے واضح شکل میں اسلام اور اسلامی سوشلزم کے نام پر ہونے والے اس تصادم میں اسلامی سوشلزم کی حق میں فیصلے دیا۔

اس کے بعد کے جو کچھ ہوا اس کی کئی بار دہرائی گئی تفصیل میں جائے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغربی سیاستدانوں نے اس پر توجہ نہیں دی کہ وہ سوشلزم سے لڑنے کی کوشش میں اسلامی بنیاد پرستی کی تجدید اور احیاء کی تائید کر رہے ہیں۔

مغرب میں سرمایہ داری کے حامی اور اشتراکیت کے مخالف مفکرین، سیاستدانوں، دانشوروں اور صحافیوں میں شاید ہی کوئی ہو گا جس نے اس وقت جہاد کو ایک حیرت انگیز تصور قرار دینے اور اختیار کرنے کا مشورہ دینے کا جھوٹ نہ بولا ہو۔ لیکن یہ سٹریٹیجک جھوٹ اسی بنیاد پرستی کا احیاء کے سوا کیا تھا جسے ہندوستان پر راج کے دوران فراموش کرانے کی بھر پور کوششیں کی گئی تھیں۔لیکن جب تک اس جھوٹ کی ضرورت ختم ہوتی وہ ایک سچ کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

یہ برطانیہ میں 7/7 کے واقعات میں مسلمانوں اور پاکستانی نژاد نوجوانوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی صورتِ حال کا پس منظر ہے اور اسے فراموش کر کے مسئلے کو سمجھنے اور حل کرنے کی جو بھی کوشش کی جائے گی وہ آسانی سے کامیاب نہیں ہو گی۔

 برطانوی معاشرہ جمہوری ہونے، اظہار کی آزادی رکھنے اور قوتِ برداشت و تحمل سے مسائل حل کرنے کی مثال تصور کیا جاتا ہے
جیسے افغانستان میں سوویت شکست اور پھر سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 11/9 تک، کئی واقعات کے باوجود مسلمان نما یہاں تک کہ پاکستانی دکھائی دینے والے کو سراہا جاتا تھا اسی طرح اب انہیں شک اور بے یقینی کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور اسے بڑھانے اور فروغ دینے والے وہی لوگ ہیں جو ’سٹریٹیجک جھوٹ‘ کو بڑھانے اور سچ بنانے میں پیش پیش تھے۔

لیکن برطانیہ میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ انسان کی بہت بڑی تہذیبی پسپائی ہو گی اگر برطانیہ میں بھی وہی طریقے اور قانون بنائے جانے لگیں جو پاکستان اور اس جیسے ان ملکوں میں ہیں جہاں شہریوں پر غیر محب وطن ہونے کا شک کیا جاتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں اور پاکستان سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کے بارے میں بات کرنے والوں کو کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے اس بات کو ضرور رکھا جانا چاہیے۔

برطانیہ میں مسلمان کب سے ہیں اور کتنے ہیں؟

مجموعی طور پر مختلف النوع جرائم میں ملوث افراد میں مسلمانوں کی تعداد کا تناسب کیا ہے اور گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اس میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو وہ کس طرح کی ہے؟

مسلمان بچوں میں سکول نہ جانے، او لیول اور پھر اے لیول سے آگے نہ پڑھنے کا رحجان دوسرے مذاہب کے مقابلے میں کیسا ہے؟

سکولوں میں مسلمان بچوں کا رویہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں اساتذہ سے کیسا ہے؟

مسلمان نوجوان تعلیم کے بعد زیادہ تر کن پیشوں میں جاتے ہیں اور وہاں انہیں کیسے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

 مسلح اور عام لباس میں ملبوس پولیس کو عدالتی اختیار دینے کی حکمتِ عملی کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئی اور لندن نے ایک بار پھر اس کی تصدیق کر دی ہے
برطانیہ میں 11/9 کے بعد مسلمانوں اور خاص طور پر نوجوان مسلمانوں کو کن رویوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے ان کے نفسیات پر کیا اثرات ڈالے اور ان کا ازالہ کرنے کے لیے برطانیہ نے بطور سٹیٹ کیا کیا؟

یہ چند باتیں انتہائی ضروری ہیں کیونکہ اس وقت ایسے مبصرین کی تعداد کچھ کم نہیں ہے جن کی باتوں کو سن کر یہ لگتا ہے کہ برطانوی معاشرہ نسل پرستی، رنگ اور ان دوسرے تضادات سے پاک نہیں ہو سکا جو پسماندہ اور غیر مہذب معاشروں میں پائے جاتے ہیں۔

مغرب میں خاص طور پر برطانوی معاشرہ جمہوری ہونے، اظہار کی آزادی رکھنے اور قوتِ برداشت و تحمل سے مسائل حل کرنے کی مثال تصور کیا جاتا ہے۔

لندن میں 7/7 کے بعد جو کچھ سامنے آیا ہے اس سے ایک بات یقینی طور پر سامنے آئی ہے برطانوی انٹیلیجنس ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں اور شاید اس ناکامی اسی حد تک رکھ کر سمجھنے کی بجائے بن لادن کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو نہیں ہونی چاہیے۔

مسلح اور عام لباس میں ملبوس پولیس کو عدالتی اختیار دینے کی حکمتِ عملی کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئی اور لندن نے ایک بار پھر اس کی تصدیق کر دی ہے۔

جن پولیس والوں کو یہ اختیار دیے گئے ہیں انہیں اس طرح کی صورتِ حال سے نمٹنے کا کتنا تجربہ ہے۔ ظاہر ہے برطانیہ کا تو ہو نہیں سکتا کیونکہ برطانیہ کو پہلی بار اس طرح کے حالات کا سامنا ہے اور اگر انہیں تجربہ کار بنانے کا بھی تجربہ کیا جا رہا تو یہ بڑی حد تک ممکنہ قتل میں با ارادہ شمولیت کے مترادف ہے۔

سٹاک ویل میں رونما ہونے والی مہلک غلطی کے بعد ذرائع ابلاغ کو یہ بتایا جانا، اس بیگناہ برازیلی شہری کی ہلاکت سے بھی کہیں بڑی غلطی تھا کہ ’ہلاک ہونے والا بظاہر ایشیائی ہے‘۔

ذرائع ابلاغ کو یہ اطلاع فراہم کرنے اور اس کے بر وقت تردید نہ کرنے والوں کا بھی احتساب کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ صریحاً اشتعال انگیزی کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی ایشیائی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔

اگر زبان کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے گریز نہ کیا گیا تو یہ اسامہ بن لادن کو طاقت فراہم کرنے کی کوشش ہو گا۔ چاہے وہ حقیقت ہو یا تصور؟

667/7 کےحملے اور میں
’میں طاقت کے خلاف ناکامی اعتراف کرتا ہوں‘
66اپنے خدا کیلیے دعا
’اے خدا تجھے پھر خیر و شر پر اختیار حاصل ہو‘
66نئے جناح کی تلاش
پاکستان کو کس جناح سے زیادہ دلچسپی ہے؟
6660 سال کی شاعری
انکی شاعری بہت کچھ سوچنے پر اکساتی ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد