BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 July, 2005, 20:08 GMT 01:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
7/7 کے حملے اور میں

اسامہ بن لادن
کہیں کوئی بات ایسی ہو رہی ہے جو ایک نام کو ایک تصور اور ایک نظریے میں تبدیل کرتی جا رہی ہے
اگر آپ اس سچ کو تسلیم کر لیں کہ لندن میں ہونے والے بم حملوں کا ذمہ دار میں ہوں اور اس صاف اور سیدھی بات کی کوئی ٹیڑھی اور پیچیدہ تاویل نہ کریں تو آپ کو بھی وہ ساری باتیں صاف محسوس ہونے لگیں گی جو ایک پچیس سالہ لڑکی نے مجھے سمجھائیں۔

اس کا کہنا ہے کہ ’آپ خود کو مجھ سے الگ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور شاید آپ اس میں کامیاب بھی ہو جائیں گےکیونکہ آپ کو یہاں آئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور آپ وہ محسوس نہیں کر سکتے جو میں محسوس کر رہی ہوں‘۔

لندن میں پیدا ہونے والی اور بہت تھوڑے تھوڑے عرصے کے لیے اپنے ننھیالی اور ددھیالی بزرگوں اور بہن بھائیوں سے ملنے کے لیے پاکستان جانے کے علاوہ سارا وقت لندن اور یورپ کے سیر سپاٹے اور پڑھنے میں گزارنے والی یہ لڑکی کہتی ہے ’ان کی بات چھوڑیں جو شکل ہی سے پاکستانی یا مسلمان لگتے ہیں، میں ان کی بات کر رہی ہوں جنہیں پاکستانی نژاد کہا جاتا ہے۔ اور میں اکیلی نہیں ہوں۔ اس وقت برطانیہ اور خاص طور پر لندن میں مجھ جیسا شاید ہی کوئی ہو گا جسے آتے جاتے ہوئے، سودا سلف خریدتے ہوئے ان آنکھوں میں اپنے لیے یہ غیر مانوس اور ناقابلِ یقین سوال دکھائی نہ دیا ہو کہ ’کہیں تم بھی تو ۔ ۔ ۔؟ اور میں ان لوگوں کی آنکھوں کی بات کر رہی ہوں جن سے شناسائی کا اتنا عرصہ گزر چکا ہے کہ مہ و سال کے حساب کی ضرورت بھی ختم ہو چکی ہو گی۔

وہ تھوڑی بہت اردو بھی بول پڑھ لیتی ہے لیکن اسے فرانسیسی پر بھی عبور ہے اور انگریزی تو مادری اور پدری نہ ہونے کے باوجود اس کی پہلی زبان ہے۔اس نے قانون میں ڈگری حاصل کی ہے اور سماجی بہبود اور انسانی حقوق کی تنظیموں

حملہ آور
حملہ آور ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ میں
کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کے دوستوں میں سب سے کم تعداد اس کے اپنے جیسے پاکستانی نژادوں کی ہے۔ وہ مقرر بھی رہی اور ہر موضوع پر بے تکان بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ اپنے دوستوں کے بارے میں بتاتی ہے:

’اکثر لڑکے اور لڑکیاں غیر پاکستانی نژاد برطانوی ہیں اور مسلمان بھی نہیں ہیں ان میں سب سے کم خالص برٹش ہیں لیکن یہ بات، یہ رنگ، یہ نسل، یہ ’اوریجن‘ اور مذہب اور یہاں تک کہ عقائد، ان میں سے کچھ کبھی ہمارے درمیان نہیں آیا‘۔

’اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم مذاہب پر بحث کرتے رہے ہیں، نسلوں پر بات کرتے ہیں، دنیا بھر کے سیاسی نظریات پر بات کرتے رہے ہیں ایک دوسرے کی جلد کی رنگت کی خرابیوں اور اچھائیوں کو زیر بحث لاتے رہے ہیں۔ قد کاٹھ، حسن اور خوبصورتی وغیرہ سب کچھ، ان کی تاریخ، ان کا جغرافیہ اور ان کی سماجی حیثیت سب پر ہم بات کرتے رہے ہیں۔ یہ ساری باتیں ہمارے نصاب میں بھی شامل رہی ہیں لیکن ہم میں سے کسی نے کبھی وہ بات محسوس نہیں کی جو فرق ڈالتی یا ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرتی ہو جیسے وہ کچھ عرصے سے کرنے لگی ہے‘۔

اس کا کہنا ہے ’ہم نے کبھی ایک دوسرے کو اس بحث مباحثے سے تکلیف نہیں پہنچائی۔ ہم سب کو اس کے علاوہ کوئی احساس نہیں ہوتا تھا کہ جو بھی بات ہو رہی ہے وہ اصل بات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ہو رہی ہے‘۔

اس نے تھوڑی دیر رکنے بعد پھر بات شروع کی ’لیکن شاید اے لیول کے بعد سے، آہستہ آہستہ، بالکل غیر محسوس انداز سے تبدیلی آنے لگی۔ افغانستان ایکشن تک ہم ایک تھے ہم سب نے یہاں افغان مہاجرین کے لیے کام کیا۔ لیکن عراق پر حملے تک ہم دو حصوں میں بٹ گئے، دلائل میں کچھ کچھ جذبات بھی آنے لگے۔ ہمارا بڑا حصہ وہ تھا جس نے عراق جنگ کے خلاف مظاہرے اور مہم میں حصہ لیا۔ ہم میں سے اکثر یہ سوچنے لگے تھے کہ افغانستان میں کمیونزم کی مخالفت میں مسلمان نوجوانوں کو ایکسپولائٹ کیا گیا اور یہ صرف مسلمان لڑکے اور لڑکیاں ہی نہیں سوچ رہے تھے۔ ہم طالبان کے بھی خلاف تھے، ہمیں ان کا حکومت کرنے کا طریقہ اور عورتوں کے ساتھ برتاؤ انتہائی ناپسند تھا‘۔

’پھر 11/9 ہو گیا۔ ایک سانحہ، ہم سب نے اسے شدید ناپسند کیا خاص طور پر

مظاہرہ
خواتین مظاہرہ کر کے بتانا پڑ رہا ہے کہ اسلام دہشتگردی کو فروغ نہیں دیتا
مسلمانوں نے، اگرچہ ہمارے کچھ لاطینی امریکی اور غیر مسلم دوستوں کا ضرور یہ خیال تھا کہ امریکہ جو کچھ دنیا میں کرتا پھرتا ہے اس کا کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں تو کوئی نہ کوئی ردِ عمل ہو گا لیکن اس کے باوجود ہم 11/9 کو اچھا نہیں سمجھ سکے۔ ہمیں اس میں کچھ ایسا غیر انسانی لگ رہا تھا جیسی سی آئی اے کی کارروائیاں لگتی ہیں‘۔

میں نے اس سے پوچھا ’اور یہ جو لندن میں ہوا ہے‘۔

’یہ بھی ویسا ہی ہے 11/9 کا سا۔ لیکن اس نے یہاں سب کو تبدیل کر دیا ہے۔ ایک خوف سا پیدا کر دیا ہے اسے لگتا ہے جیسے ہم سب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ تم نے کیا ہے تم بھی اس میں شامل ہو۔ کسی وقت تو میں خود کو ان یہودیوں کی طرح محسوس کرتی ہوں جو اسی جرمنی میں جہاں وہ پیدا ہوئے اور پلے بڑھے تھے اپنے ہی ان جرمن دوستوں سے بچتے اور چھپتے پھر رہے جو نازی بن چکے تھے۔ ان کا جرم کیا تھا صرف یہ کہ وہ یہودی ماں باپ کے ہاں پیدا ہوئے تھے، جیسے میں پیدائشی مسلمان ہوں، میرے دوست پیدائشی عیسائی ہیں اور کچھ ہندو ہیں۔ ہم کیا کریں؟ کیا اپنے ماں باپ سے انکار کر دیں۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا، کرنا بھی چاہیں تو بھی نہیں ہو سکتا‘۔

اس نے ایک گہرا سانس لیا اور خود کلامی کےانداز میں بولی ’اصل میں ہمارا برطانوی معاشرہ بانجھ ہو گیا ہے، کمزور ہوتا جا رہا ہے مسلسل۔ ہمارے سیاستدانوں کا یقین اپنی ہی اقدار پر سے اٹھتا جا رہا ہے‘۔

’ہمارے ہاں ایک عرصے سے کوئی فلسفی پیدا نہیں ہوا۔ ہمارے پاس کوئی ایسا طاقتور مفکر نہیں ہے جو ہم سب کو، جو برطانوی ہیں ایک نیا راستہ دکھا سکے۔ ہمیں کچھ اوپر اٹھا سکے۔ اُن باتوں کو باتوں سے اوپر ایک یقین میں تبدیل کر سکے جو ہم انسانیت، جمہوریت، انصاف اور رواداری کے بارے میں کرتے ہیں۔ اور صرف ہمیں ہی نہیں ساری دنیا کو اس کی ضرورت ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا اس دنیا کو، جو کئی سو سال کی کوششوں کے بعد انسانیت کے ایک ایسے نئے نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں مذہب ہو گا بھی اور نہیں بھی، جس میں سرمایہ داری بھی ہو گی اور طبقاتی فرق بھی بتدریج ختم ہوتا جائے گا۔ جس میں ریاستی اجتماعیت بھی ہو گی اور فرد کی محفوظ ذاتی آزادی بھی۔ لیکن، یہ کیا؟ ایک اسامہ بن لادن ظاہر ہوتا ہے اور آن کی آن میں صدیوں سے اس بارے میں کی جانے والی کوششوں پر پانی پھرنے لگتا ہے‘۔

’نہیں یہ اسامہ بن لادن نہیں ہے۔ یہ اس کی طاقت نہیں ہے۔ یہ ہماری کمزوری ہے۔ ہم نے اپنی تعلیم اور تصورات کی دیواروں کو شاید اتنا مضبوط نہیں کیا کہ اسامہ بن لادن یا کسی اور کا کوئی اور تصور اسے متاثر نہ کر سکے‘۔

ٹرافلگر سکوائر
ٹرافلگر سکوائر پر بم حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائیہ اجتماع

وہ جذباتی ہے اور اداس ہے اور مایوس ہے۔ وہ ہنستی ہے اور بلا وجہ رونے لگتی ہے۔ وہ نفسیاتی ماہر سے مشورہ کرنا چاہتی ہے اور کہتی ہے میں ’میں سوچ کے اس دوزخ سے نجات چاہتی ہوں‘۔ اور میں سوچتا ہوں، برطانوی معاشرہ کتنا خوش نصیب ہے۔ جس کی ایک شہری اتنی ذمہ دار ہے۔

لیکن یہ کون سوچے گا؟ شہزاد تنویر، حسیب حسین، جرمین لنڈسے اور صدیق خان کو ہم کیوں نہیں سمجھا سکے کہ جو کچھ وہ کرنے جا رہے ہیں اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ان کو اکسانے والوں نے کامیابی سے اپنا کام کیا لیکن انہیں روکنے والے کہاں تھے۔ روکنے والوں کو اکسانے والوں سے کہیں زیادہ وقت ملا تھا۔ ان کے جاننے والے سب کہتے ہیں ایسے نہیں تھے کہ ان پر خود کش حملوں کا شک بھی کیا جاتا۔ میں اسے کسی اور کی نہیں اپنی ناکامی سمجھتا ہوں۔

میں خود بھی سمجھتا ہوں کہ اتحادیوں کو عراق پر حملہ کرنے سے نہیں سکا۔ میں خود کو ’سرکشوں‘ اور مزاحمت کاروں کا نشانہ بننے والے عراقیوں اور غیر عراقیوں کی موت کا ذمہ دار بھی سمجھتا ہوں اور اسی لیے میں خود کو اس بات کا بھی ذمہ دار گردانتا ہوں کہ میں تنویر، حسیب، لنڈسے اور صدیق کو مرنے مارنے سے نہیں روک سکا۔

اسی لیے میں کہہ رہا تھا کہ لندن پر 7/7 کے حملے میں نے کیے ہیں۔ میرے خلاف طاقت اور نئے قوانین کی ضرورت نہیں اور نہ ہی میری سزا یہ ہے کہ مجھے مرنے یا مارنے دیا جائے بلکہ ان لوگوں کو سامنے لایا جائے جو زندگی اور زندہ رہنے پر یقین پیدا کرتے ہیں۔ مجھے تو امید سی ہے کہ زندگی اور دنیا ابھی اتنی بدتر نہیں ہوئی کہ موت پر اکسانے والے اور ایک اور دنیا کا خواب دکھانے والے اسے شکست دیتے چلے جائیں گے۔

66اپنے خدا کیلیے دعا
’اے خدا تجھے پھر خیر و شر پر اختیار حاصل ہو‘
66تیس نمبر بس
انور، ظہیر اور کرسٹی پر وسعت اللہ خان کا کالم
66یہ بربریت ہے
لندن بم حملوں پر علی احمد خان کا کالم
نفرت کے بم
لندن کے باسیوں کے لیے عارف شمیم کا کالم
66نئے جناح کی تلاش
پاکستان کو کس جناح سے زیادہ دلچسپی ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد