BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 July, 2005, 08:00 GMT 13:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن دھماکے: سات مزید گرفتار
مشتبہ مطلوب
(1) یٰسین حسین عمر جس پر وارن سٹریٹ کے قریب ٹیوب پر حملے کی کوشش کا الزام ہے، عمر 24 سال (2) مختار سعید ابراہیم پر شارڈچ میں بس نمبر 26 پر حملے کی کوشش کا الزام ہے۔ عمر 27 سال۔ (3) تیسرا ملزم جس کے نام کے بارے میں ابھی نہیں بتایا گیا اور جس پر الزام ہے کہ اس نے اوول سٹیشن پر ٹیوب کو بم کا نشانہ بنانے کی کوشش کی (4) روم سے گرفتار کیا جانے والا ملزم عثمان حسین جس پر الزام ہے کہ اس نے شیفرڈز بش بم حملے کی کوشش کی
لندن حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے سسیکس سے سات مزید افراد کو گرفتار کیا ہے۔

گرفتار ہونے والے میں چھ مرد اور ایک عورت شامل ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان مشتبہ افراد کو سسیکس میں دو رہائشی عمارتوں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔

ان گرفتاریوں کے بعد پولیس حراست میں موجود افراد کی تعداد انیس ہو گئی ہے۔ ان میں وہ اکیس جولائی کو لندن میں ناکام بم حملوں کے تین مرکزی ملزمان بھی شامل ہیں جن کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ان گرفتاریوں میں مسلح پولیس اہلکاروں نے حصہ نہیں لیا۔ انہیں سسیکس کے ہی تھانوں میں رکھا جارہا ہے۔

پولیس لندن میں زیر حراست مرکزی ملزموں سے ہونے والی تفتیش کے بارے میں بہت کم تفصیلات جاری کر رہی ہے لیکن برطانوی اور اطالوی اخبارات میں چوتھے ملزم سے ہونے والی پوچھ گچھ کی تفصیلات شائع کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ لندن پولیس نے اکیس جولائی کے ناکام بم حملوں کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔

برطانوی پولیس دھماکوں کے محرکات اور ان کے پچھے تنظیموں اور اشخاص کا پتہ لگانے کے لیے اکیس جولائی کے حملوں کے مبینہ ملزمان سمیت سترہ افراد سے تفتیش کر رہی ہے۔

پولیس چودہ مختلف گھروں پر چھاپوں کے دوران ملنے والی چیزوں کا فورینسنک معائنہ کر رہی ہے۔

برطانوی پولیس کے اہلکار پیر کو اٹلی کے حکام سے لندن بم حملوں میں مبینہ طور پر ملوث عثمان حسین کو جو حمدی آئرزک کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں،
برطانیہ کے حوالے کرنے کی باقاعدہ دراخواست کریں گے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ عثمان حسین اٹلی سے برطانیہ منتقلی کے فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کر یں گے۔

لندن پولیس عثمان حسین سے شیفرڈز بش کے زیر زمین سٹیشن پرناکام دھماکہ کرنے کی کوشش کے الزام میں تحقیقات کرنا چاہتی ہے۔

اٹلی کی حکومت نے عثمان حسین کو حال ہی میں متعارف کرائے جانے والے ایک قانوں کے تحت گرفتار کیا ہے جس سے پورپی ممالک میں ملزموں کی منتقلی آسان ہو جاتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عثمان حسین کی برطانیہ منتقلی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

لندن پولیس نے عثمان حسین کے موبائل فون کو ٹیپ کرتے ہوئے اس کا سراغ لگایا۔ پولیس کے مطابق اکیس جولائی کے واقعہ کے بعد عثمان حسین فرانس سے ہوتا ہوا روم اپنے بھائی کے پاس جا پہنچا۔

اتھوپیائی نژاد برطانوی شہری عثمان حسین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے روم میں پرورش پائی تھی جہاں اس کے والدین نے سیاسی پناہ حاصل کر رکھی تھی۔

پولیس ایک اور شخص وہبی محمد کو تیس جولائی کو لیٹل وام وڈ سکرب کے علاقے سے ملنے والے دھماکہ خیز مواد کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
وہبی محمد اوول سٹیشن پر ہونے والے ناکام حملے کے مبینہ ملزم رمزی محمد کا بھائی بتایا جاتا ہے۔

پولیس نے جمعہ کو رات کو جنوبی لندن کے اولڈ کینٹ روڈ کے علاقے میں چھاپہ مارا کر وہبی محمد کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس کو امید ہے کہ گرفتار لوگوں سے لندن بم حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ان کو تربیت دینے والوں کے بارے میں مفید معلومات مل سکیں گی۔

پولیس اور خفیہ ادروں کے اہلکار یہ پتہ لگانے کی کوشش میں ہیں کہ لندن بم حملوں کے لیے ان اشخاص کو کس نے بھرتی کیا اور کس مالی مدد کی اور کیا ان جیسے اور نوجوانوں کو بھی بھرتی کیا جا چکا ہے۔

پولیس نے جعمہ کونارتھ کنزنگٹن کے علاقے سے مختار سعید ابراہیم اور رمزی محمد کو گرفتار کیا تھا۔اس سے پہلے یاسین حسن عمر کو برمنگھم سے گرفتار کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد