لندن: تین خواتین سمیت بارہ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے لندن حملوں میں ملوث لوگوں کو مبینہ طور پر پناہ دینے کے الزام میں تین خواتین اور نو مردوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ان خواتین نے مشتبہ بمباروں کو پناہ دی تھی۔ پولیس نے لندن کے جنوبی علاقے ٹوٹنگ سے نو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ نو مردوں کو دو مختلف جہگوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ بی بی سی کے رپورٹر کے مطابق گرفتار کیے جانے والے اشخاص میں وہ تین ملزمان شامل نہیں ہیں جو اکیس جولائی کے ناکام حملوں میں براہ راست ملوث تھے۔ لندن پولیس بدھ کو برمنگھم سے گرفتار ہونے کیے جانے والے یاسین حسن عمر سے لندن میں بم دھماکوں کی کوشش کرنے کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہے ۔ یاسین حسن عمر کو برمنگھم میں حراست لیے جانے کے بعد لندن لایا گیا جہاں اس کو سخت حفاظت والے پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے۔ پولیس نے تین خواتین کو بھی قانون شکنوں کو پناہ دینے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے ۔ یاسین حسن عمر کا تعلق ان چار مشتبہ بمباروں سے جنہوں نے اکیس جولائی کو لندن میں دھماکے کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔چوبیس سالہ یاسین حسن عمر پندرہ سال پہلے صومالیہ سے برطانیہ آیا تھا۔ مختار سعید ابراہیم پر الزام ہے کہ اس نے اکیس جولائی کو ہیکنی جانے والی بس کو بم سے آڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ پولیس تین دوسرے حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ پولیس نے ایک اور مشتبہ بمبار کی ایک اور تصویر جاری کی ہے جس میں وہ ایک بنیان پہنے نظر آ رہا ہے۔
اس تصویر میں وہ ایک بنیان میں ملبوس دکھائی دیتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سٹیشن سے نکلنے کے بعد اس نے وہ کپڑے اتار پھینکے جو اس نے بم رکھتے ہوئے پہن رکھے تھے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اس مشتبہ بمبار کے پھینکے ہوئے کپڑوں کے بارے میں اگر کوئی معلومات رکھتے ہوں تو پولیس کو فوراً اطلاع کریں۔ پولیس کے مطابق تین مشتبہ حملہ آور لوگوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ایک اور مشتبہ حملہ آور مختار ابراہیم کے خاندان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا ستائیس سالہ مختار ابراہیم سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے اور وہ گیارہ سال پہلے ان سے علیحدہ ہو گیا تھا۔ مختار ابراہیم کے خاندان نے کہا کہ جب انہوں نے اکیس جولائی کے مشتبہ حملہ آوروں کی تصاویر ٹی وی پر دیکھیں تو انہوں نے سب سے پہلے پولیس کو مختار ابراہیم کے بارے معلومات فراہم کی تھیں۔ پولیس افسر نے مختار ابراہیم کے خاندان کے تعاون کی تعریف کی ہے۔ مختار ابراہیم کا خاندان 1990 میں ایریٹریا سے برطانیہ آیا تھا۔ اس کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ مسجد باقاعدگی سے جاتا تھا اور لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا رہتا تھا۔ برمنگھم گرفتاریوں کے آپریشن کے دوران آتشی اسلحے کا استعمال نہیں کیا گیا تاہم اس مشتبہ شخص کے خلاف ٹیزر گن (سٹن گن) استعمال کی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||