دو مشتبہ حملہ آوروں کے نام جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن پولیس نے اکیس جولائی کو بم دھماکوں کی کوشش کرنے والے چار مشتبہ افراد میں سے دو کے نام جاری کر دیے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں لندن پولیس کے ڈپٹی اسٹنٹ کمشنر پیٹر کلارک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اگر ستائیس سالہ مختار سعید ابراہیم یا چوبیس سالہ یٰسین حسن عمر کے متعلق کچھ بھی جانتے ہیں تو پولیس سے رابطہ کریں۔ پولیس کے مطابق مختار سعید ابراہیم ہیکنی کی 26 نمبر بس میں ہونے والے دھماکے میں ملوث ہیں جبکہ یٰسین حسن عمر کو وارن سٹریٹ انڈر گراؤنڈ پر ہونے والے واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ مختار سعید ابراہیم کا تعلق شمالی لندن کے اس گھر سے بھی بتایا جا رہا ہے جہاں پر پولیس نے چھاپہ مارا تھا۔ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو پلاسٹک کا ایک جار بھی دکھایا گیا جس کے متعلق پولیس کا خیال ہے کہ تمام دھماکوں میں اس جیسے جار استعمال کیے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جار بھارت سے درآمد شدہ ہیں اور انہیں مبینہ طور پر رک سیک بیگوں میں رکھ کر جائے واردات تک لے جایا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ایسے جار برطانیہ میں قریباً سو دکانوں میں فروخت ہوتے ہیں۔
پولیس ذرائع نے دکانداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ چند ماہ میں ایسے پانچ جار کسی شخص کو فروخت کیے ہوں تو وہ پولیس کی مدد کریں۔ دریں اثناء پولیس نے اکیس جولائی کے دھماکوں کے حوالے سے مزید دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سٹاک ویل میں جس برازیلی باشندے کو پولیس نے غلطی سے گولی مار کر ہلاک کیا تھا اس کے برطانیہ میں قیام کی قانونی مدت ختم ہو چکی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||