’لندن حملوں کی وجہ عراق نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکیں گے اور یہ کہ لندن میں ہونے والے بم دھماکے کی وجہ عراق کی جنگ نہیں ہے۔ مسٹر بلیئر نے یہ تسلیم کیا کہ دہشت گردوں کو بھرتی کرنے کے لئے عراق کی جنگ کو استعمال کیا جارہا ہے لیکن ان کا اصرار تھا کہ دہشت گردی کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملے عالمی برادری کے لئے خطرات سے نمٹنے کے لئے اُٹھ بیٹھنے کا پیغام تھا لیکن کئی لوگ اٹھنے کے بعد پھر سو گئے۔ وزیراعظم برطانیہ کی اپوزیشن جماعتوں سے دہشت گردی کے خلاف لائے جانے والے نئے قوانین کے بارے میں مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کررہے تھے۔ ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو ظاہر کرنے کی ضرورت ہے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ عراق کے بارے میں تشویش لوگوں کو دہشت گردی پر مجبور کررہی ہے کیونکہ اگر ایسا ہے تو یہ لوگ کار بم حملوں میں بچوں کو ہلاک کیوں کررہے ہیں۔ ’ہم اس وقت تک ان (دہشت گردوں) سے نپٹ نہیں پائیں گے جب تک ہم ان کا ہر سطح پر مقابلہ نہ کریں۔ صرف ان کے طریقہ کار کا بلکہ ان کے خیالات کا بھی۔‘ پچھتر منٹ تک جاری رہنے والی اس پریس کانفرنس میں مسٹر بلیئر نے کہا کہ ’دہشت گردی کے لئے کوئی بھی جواز جائز نہیں خواہ یہ فلسطین میں ، عراق میں، لندن میں، مصر میں ، امریکہ میں یا کہیں بھی۔‘ اس سے پہلے مذاکرات کے بعد اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ٹونی بلیئر فون پر ہونے والی گفتگو کو عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے نئے قوانین کے بارے میں برطانیہ کی تمام جماعتوں میں اتفاق پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کے باوجود اس میں ابھی خاصی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||