 |  مدارس پر کریک ڈاؤن کے بعد جنرل مشرف کا قوم سے خطاب |
دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد دنیا کی نظریں افغانستان اور پاکستان پر مرکوز رہی ہیں۔ لیکن حال ہی لندن میں ہونے والے خودکش بم حملوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر شہ سرخیوں میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق کم سے کم دو بمباروں نے پاکستان کا سفر کیا تھا۔ چند روز پہلے مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے دھماکوں کے سلسلے میں بھی مصر کی پولیس نے چھ پاکستانیوں کی تصاویر شائع کی ہیں۔ نوٹ: دو دن بعد مصری حکومت نے کہا کہ شرم الشیخ حملوں میں پاکستانی ملوث نہیں ہیں۔ آپ کے خیال میں پاکستان کا ہی نام کیوں سامنے آتا ہے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
شہزاد ملک، کویت: وہ بھی تو انہیں اس حد تک لے جا رہے ہیں کہ وہ خودکش موت کو بھی جنت کا دروازہ سمجھتے ہیں۔ دانش، کراچی: یہ امریکہ کے جہادِ افغانستان کا دیا ہوا وہ تحفہ ہے جو اب پاکستان کے ماتھے کا داغ بن چکا ہے۔ ایس ایم رفیق، کراچی: یہ سب امریکہ کی مہربانی ہے جس نے پاکستان میں اپنے مفاد کے لیے جہاد کو فروغ دیا اور اب یہ اس کے گلے میں پھنس چکا ہے۔ ارشد خان، ملتان: یہ سب صرف اس لیے ہورہا ہے کہ پاکستان وہ واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے۔ مغرب اور امریکہ بحیرہِ کیسپیئن کے قدرتی وسائل تک پہنچنے کے لیے پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ای لیے کبھی لندن دھماکوں اور کبھی مصر دھماکوں کا الزام اس کے سر پر ڈال دیا جاتا ہے۔ فرحان عظمت، ڈنمارک: یہ صرف مولویوں اور ایم ایم اے کی وجہ سے ہورہا ہے۔ میاں عبدالقیوم، وہاڑی: مغربی ممالک میں ہونے والے دھماکے ان کی اپنی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ وہ صرف اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹہرا رہے ہیں۔ انہیں دنیا پر اپنی حکمرانی اور تیل کے مفادات کے لیے خود آگے بڑھ کر لڑنا ہوگا۔ براہِ مہربانی پاکستان پر الزام مت لگائیے جو پہلے ہی مغربی ممالک کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خاصا نقصان اٹھا چکا ہے۔  | کیسے نہ مدارس کو الزام دیں؟  ہماری تاریخ گواہ ہے کہ انتہا پسند خود ہماری اپنے مساجد میں اپنے معصوم لوگوں کو مار چکے ہیں۔  آصف علی، نیو یارک |
آصف علی، نیو یارک: ہماری تاریخ گواہ ہے کہ انتہا پسند خود ہماری اپنے مساجد میں اپنے معصوم لوگوں کو مار چکے ہیں۔ پھر ہم کیسے نہ مدارس کو الزام دیں؟وسیم اشرف، جوہرآباد: یہ صرف پاکستان اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر قبضے کا امریکی پروپیگنڈا ہے۔ آپ دیکھیے کہ امریکہ نے حملوں کے لیے صرف ان ممالک کا انتخاب کیا ہے جو چین کے قریب ہیں جیسے کہ عراق، افغانستان اور اب ایران اور پاکستان۔ اسد علی، چارسدہ: اس طرح تو ہونا ہی تھا اس طرح کے کاموں میں۔ میر ابراہیم، کراچی: جناب، جب بھی معاشرے میں کسی کی کم عقلی کی بات ہو تو کہتے ہیں کہ کیا فوجی دماغ ہے تمہارا۔ اب فوج کے اندر بھی دو درجے ہیں، جب وہاں بھی کم عقلی کی بات ہو تو کہتے ہیں تمہاری سوچ بالکل کمانڈو والی ہے۔ شاید اسی لیے دنیا بھر میں کہیں بھی کسی کمانڈو کو فوج کا سربراہ نہیں بنایا جاتا۔ اب دیکھیں پاکستان کی بدقسمتی، ایک تو فوجی حکومت، پھر سربراہِ فوج اور مملکت دونوں کمانڈو۔ اوپر سے پاکستان بھر میں انہیں اپنے سوا کوئی عقلمند نہیں دکھائی دیتا۔ آپ صرف ان کی زبان ہی دیکھ لیں جس میں وہ سیاسی لوگوں سے بات کرتے ہیں۔ کروڑوں عوام کا انتخاب علط ٹہرا اور یہ جو گن پوائنٹ پر آئے ہیں، درست ٹہرے۔ اگر فوج سے چھٹکارا ہوجائے تو پاکستان کا نام کسی دہشتگردی کی فہرست میں نہیں آئے گا۔ آپ ان ہی سے پوچھئے کہ کس نے بنائے ٹریننگ کیمپس؟ کس نے انہیں فنڈز مہیا کیے؟ سید قمر عباس، بھکر: بڑے میاں تو برے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ، جب حکمران نالائق ہوں تو یہ دن دیکھنے پڑتے ہیں۔۔۔۔ عمران زاہد، لاہور: پاکستان کا نام اس لئے بار بار آتا ہے کیوں کہ صدر پاکستان نے ضرورت سے زیادہ لچک دکھائی ہے، جس کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ پریسیڈنٹ تو بالکل امریکہ کے غلام بن چکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی خودداری اور وقار کا تحفظ کیا جائے۔۔۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: شکست خوردہ کو سبھی مارتے ہیں، ہم ایک دفعہ مغرب کےآگے گھٹنے ٹیک گئے، اب مغرب ہم سے اٹھکھیلیاں کرتا رہے گا۔۔۔۔ سید انور علی، شارجہ: اسلام کے نام پر افغانستان اور کشمیر کی خاطر ہم اپنے ملک میں جو کچھ کرتے رہے ہیں یہ سب اسی کا نتیجہ ہے۔ ہم نے اسامہ بن لادن کے ماننے والوں کو کھلے عام چھٹی دے رکھی تھی، جو بےروزگار نوجوانوں کے ذہن کو خراب کررہے ہیں۔۔۔۔ ایک پاکستانی خان: جو عارضی سکیورٹی کے نام پر آزادی (لیبرٹی) سے کمپرومائز کرلیں گے انہیں دونوں میں سے کچھ بھی نہیں ملے گے۔۔۔۔ آفتاب احمد، دوبئی: ذاتی طور پر مجھے شرمندگی ان لوگوں پر نہیں جنہوں نے یہ سب کیا، بلکہ ان لوگوں پر ہے جو اس کے پیچھے ہیں۔ اور آپ کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ یہ لوگ پاکستانی نہیں ہیں۔۔۔۔ سید فرہاز، ابوظہبی: پاکستانی اسلامی انتہاپسند مولویوں کی وجہ سے۔۔۔ ظفر اقبال، الخلیج: اصل میں یہ صرف بھیڑ چال ہے دوسرے کنٹریز کی طرف دیکھتے ہوئے، ویسے بھی ان کی بات ٹھیک ہے کویں کہ جب ہمارے حکمران ہی اپنے لوگوں کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو کہنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔ کنول، جنوبی کوریا: نام ہی کافی ہے، شاید ہم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا! ہمارا نام بے وجہ نہیں آتا۔ اس کے پیچھے کچھ حقیقت ضرورت مضمر ہوگی۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔ زبیر احمد فاروقی، کانپور، انڈیا: اصل میں بات یہ ہے کہ کسی بھی حادثے کے بارے میں کچھ کہنا مقصود ہے تاکہ رسم نبھادی جائے اور اس کا بہت آسان طریقہ یہ ہے کہ پاکستان کا نام لےلیا جائے۔ اس وقت پوری دنیا بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہوئی ہے، صرف یہ کہہ دینے سے کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے کام نہیں بنے گا۔ چند ایک ملکوں کو چھوڑ کر سب ممالک امریکہ کہ دہشت گردی کا بادشاہ کہتے ہیں۔۔۔۔ کاشف اقبال، اسلام آباد: پاکستان کا نام اس لئے لیا جاتا ہے کہ مستقبل میں اگر پاکستان پر اٹیک کرنا پڑے تو اس کا کوئی بہانہ پہلے سے موجود ہونا چاہئے کیوں کہ پاکستان واحد مسلم نیوکلیئر پاور ہے۔ مجتبیٰ سواتی، کراچی: پاکستان اس وقت پہلا اسلامی ملک ہے جو کہ ایٹمی پاور ملک ہے اور اسلام دشمن عناصر کو اس پر بہت تکلیف۔۔۔ پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرنے کی کوشش ہورہی ہے اور بدقسمتی سے ہمارے حکمران خود ان اسلام دشمنوں کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں، اللہ ہمارے ملک کی حفاظت کرے۔ سید عادل، ٹورانٹو: پاکستان ایک بہانہ ہے، وہ اپنے اقدامات اور اس کے ردعمل پر دھیان نہیں دیتے۔ دہشت گرد کا کوئی مذہب یا قوم نہیں۔ دہشت گرد آر ایس ایس، القاعدہ، مجاہدین، یا ریاستی دہشت گرد ہوسکتا ہے۔ اس کا صرف مقصد ہے کہ اپنے سیاسی مقاصد کو زبردستی اور قبضے کے ذریعے منوانا۔ محمد فیصل جمال، چکوال: میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری بےاثر لیڈرشِپ کی وجہ سے ہے۔ ہماری لیڈرشِپ کنفیوژڈ اور غیرذمہ دار ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سب ہمیں ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جو کہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی ہے۔۔۔۔ واجد حسین، پبی، پشاور: کیوں کہ پاکستان ایک مسلم نیوکلیئر ریاست ہے، اور کرائسٹ اور جووِش اسے پسند نہیں کرتے۔ وہ پاکستان کو بکھرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے جہاں کہیں کچھ بھی ہو اس میں پاکستان کو ملوث ٹھہراتے ہیں۔۔۔۔ جمیل: پاکستان کے خلاف دنیا کی رائے قائم کرنا، اور اس کے نیوکلیئر وسائل پر حملے کرنے کے بہانے تیار کرنا، اس اسلامی ملک کو نیوکلیئر وسائل سے قطع کرنا۔۔۔۔ محمد اسماعیل، ملتان: یہ تو نظرِ کرم ہے انہی لوگوں (ویسٹرن ایجنسیز) کا، ورنہ ہم اس پیار کے قابل کہاں تھے۔ مہوش علی: کیوں کہ پاکستان امریکہ کے ٹارگِٹ لِسٹ پر اگلا نشانہ ہے۔ وہ ان لوگوں کی تلاش میں ہیں جو ان کے سامنے سر جھکاسکے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ امریکہ ہے سارے پروپیگنڈے کے پیچھے۔ گیارہ ستمبر سے امریکہ تمام ہلاکتوں کے پیچھے ہے، ٹوئن ٹاورز، افغانستان پر حملہ یا عراق پر، امریکہ کے کھاتے میں ہے۔ یہ سب معصوم مسلمانوں کو کیپچر کرنے کے بہانے ہیں اور امریکہ کی ہلاکتوں کے لئے ان کو ذمہ دار ٹھہرانے کے۔۔۔۔ رضا، کراچی: کیسے کہہ دوں کہ چھوڑ دیا ہے اس نے مجھ کو بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی! بلال صدیقی، یو اے ای: کیوں کہ اسلام اور پاکستان دشمن اس ملک کو ترقی کی راہ پر نہیں دیکھنا چاہتے اور ہر قیمت پر پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینا چاہتے ہیں۔ سید وسیم رضا، مانٹریال: گیارہ ستمبر کے واقعات سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ لندن میں ہونے والے دھماکوں کے افراد پاکستانی ماں باپ کے اولاد تھے لیکن وہ برِٹِش تھے۔ ان کی پیدائش اور ڈیتھ دونوں انگلینڈ میں ہوئی۔ اور اب مصر کے دھماکوں میں بھی پاکستان کا ہی نام آرہا ہے، آپ کا سوال کہ پاکستان کا نام کیوں آرہا ہے، یہ اس لئے آرہا ہے کہ یہ لوگ پاکستان سے ہیں۔ اور اس بات کا نتیجہ پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں پر بہت برا نکل سکتا ہے۔ جس ملک کے عوام اپنے بہتر مستقبل کے لئے اپنا بہتر لیڈر نہیں چن سکتے، اور بار بار چوروں کو منتخب کرتے ہیں اس ملک کے لوگوں کو اور کیا مل سکتا ہے؟۔۔۔۔ شعیب، بنوں: ہم تو انکل سیم کو کہیں گے: سب کچھ بھلا دیا یہ وفا کا کیسا سلا دیا۔ سید قمر، پاکستان: پاکستان کا نام کیوں نہ آئے؟ افغان جنگ میں ہمارے مدارس کے طلباء ہی نے تو کارنامے انجام دیے تھے۔ ان بےچاروں کو تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عام آدمی جانے یا نہیں لیکن خاص لوگ ان مقبول مدارس کو جانتے ہیں جہاں جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے جیسے مدرسہ حقانیہ جو ملا عمر کا مدرسہ بھی رہ چکا ہے۔ ہمارے کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ سارے جہاد پاکستانی ہی کرتے ہیں، یا سارے مدرسے ہی جہادی پیدا کرتے ہیں، مگر ہمیں ان لوگوں پر نظر رکھنی ہوگی جو پاکستان کو بدنام کرتے ہیں۔ ہر دھماکے میں پاکستان کا نام سازش ہے، جس میں مدرسے والے بھی برابر کے شریک ہیں، لیکن یہی لوگ بڑھ چڑھ کر دنیا کو سبق سکھانے کی بات کرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ سیف رانا، جاپان: کیوں نہ ہمارا نام آئے؟ ہم اتنے تابع فرمان ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی کچھ ہوجائے ہم خود آگے بڑھ کر کہتے ہیں یہ ہم نے کیا ہے۔ پاکستان میں مدارس پر کریک ڈاؤن کو دیکھ لیں۔ عمر چیما، فرانس: اسی کے عشرے میں افغانستان میں جہاد کے نام پر اور نوے کے عشرے میں کشمیر میں جہاد کے نام پر دہشت گردی کو پناہ دینے کی پالیسی نے دہشت گردوں کی فصل پیدا کی ہے۔ بدقسمتی ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں نے یہ محسوس نہ کیا کہ دور رس نتائج کیا ہوں گے، اس کے برے نتائج ہوسکتے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہم نے پچیس سال پہلے جو بویا اسے کاٹیں۔ حماد بخاری، پاکستان: ہم بچپن میں پڑھا کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب جنگیں میدان میں نہیں لڑی جائیں گی، بلکہ ٹیبل پر لڑی جائیں گی، اور ہتھیاروں کی جگہ پروپیگنڈہ کا استعمال ہوگا۔ وہ وقت اب آگیا ہے۔ میرے خیال میں اس طرح کے پروپیگنڈہ کے ذریعے پاکستان کے خلاف جنگ شروع ہوچکی ہے۔ پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے تیار ہونے کی ضرورت ہے۔ چودھری، یو اے ای: پاکستان کا نام صرف بدنام کیا جارہا ہے، اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ان ساری کارروائیاوں میں عرب دنیا کا ہاتھ ہوتا ہے، ڈائریکٹ یا اِن ڈائیرکٹ۔ پاکستان کو صرف یوز کیا جاتا ہے مذہب کے نام پے۔ وقار عظیم، لاہور: میں سمجھتا ہوں کہ یہ میڈیا کا پروپیگنڈہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف، بالخصوص پاکستان کے خلاف، کام کررہی ہے، دہشت گرد کی حیثیت سے، جو صحیح نہیں ہے۔ امریکہ فنڈامنٹلسٹ ہے، ۔۔۔ (واضح نہیں) بیجل سندھی، لاڑکانہ: پاکستان کی آئی ایس آئی ایک خطرناک آرگنائزیشن ہے، جس نے سندھیوں، بلوچوں کو دبا رکھا ہے، اور پٹھانوں اور کشمیریوں کو استعمال کرنے کے بعد دنیا بھر میں ٹیرر شروع کردی ہے۔ تہذیب یافتہ دنیا کو آئی ایس آئی پر روک لگانے کی ضرورت ہے کہ دیر نہ ہوجائے۔ عمر وڑائچ، جرمنی: انٹرنیشنل میڈیا میں فنڈامنٹلسٹ خیالات شو کرنے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف حالات پیدا کیے جاچکے ہیں، اب یہ پاکستان کے دشمن ہیں جو حالات کا فائدہ آسانی سے اٹھاسکتے ہیں۔۔۔ حبیب احمد، سوات: کیوں کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس کے پاس نیوکلیئر بم ہے۔ اور مغرب مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اور اسلام عالمی امن عامہ اور بھائی چارگی کی دعوت دیتے ہیں۔ مشتاق خان، ہمِلٹن، کینیڈا: وہ پاکستان سے چھٹکارا چاہتے ہیں کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ یہ ملک کچھ بھی کرسکتا ہے، اسے صرف ایک لیڈر کی ضرورت ہے جو ان کے سامنے کھڑا ہوسکے۔ پاکستان صرف واحد رکاوٹ ہے جسے وہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ محمد مظفر اقبال خواجہ، ملتان: کیوں کہ اگلا نشانہ پاکستان ہے، اس لئے اس کے خلاف شواہدات پیدا کیے جارہے ہیں۔ انور شاہ، جرمنی: پرپیگنڈہ، یہ اچھی بات نہیں کہ بغیر کسی ثبوت کے الزام لگادیا جائے۔ کیا پتہ یہ لوگ خود بھی دھماکوں کے شکار ہوچکے ہوں جن کو مصر کی پولیس فرار سمجھ رہی ہے۔ دوسری یہ بات حلق سے نیچے نہیں اترتی کہ جو لوگ جرم کرنے جارہے وہ پہلے اپنی تمام معلومات اور کاغذات کسی کے پاس چھوڑ جائیں۔ نامعلوم: کیوں کہ پاکستانیوں نے لندن میں بم اٹھائی ہے، اس لئے۔ فیصل کریم، اوکاڑہ: میرے نزدیک سب کچھ ویسا نہیں جیسا نظر آرہا ہے۔ ضروری نہیں کہ پاکستانی ہی ہر بات اور ہر کام کے موردالزام ٹھہرائے جائیں۔ ٹھیک ہے پاکستانیوں کی کافی تعداد شدت پسند بھی ہے، مگر یہ کہنا کہ دنیا میں ہر جگہ پاکستانی ہی ایسی کارروائیوں میں ملوث ہیں، کچھ غلط ہوگا۔ یہ پوائنٹ بھی نوٹ کیا جانا چاہئے کہ پاکستان کے دشمن بھی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاکر پاکستان کو بدنام کرسکتے ہیں۔ محمد سہیل، کوئٹہ: شیک سے بڑھ کر شیخ جے غلام۔ پاکستانی اپنے عرب بھائیوں کے لئے کچھ زیادہ ہی جذباتی ہیں جبکہ عرب پاکستانیوں کو اپنے برابر کا نہیں سمجھتے۔ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کا نام اب ہر قسم کی دہشت گردی سے منسلک ہے۔ محمد جاوید، شارجہ: کیوں کہ پاکستان واحد اسلامی پاور ہے، اس لئے انہیں ہر ایکٹیویٹی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ جہاں تک لندن بم دھماکوں میں ملوث ہونے والوں کا پاکستان ٹریول کرنے کا تعلق ہے تو سب سے زیادہ دہشت گردوں نے امریکہ اور لندن کا سفر کیا ہوتا ہے۔ مگر ابھی تک کسی کے پاس ٹھوس ثبوت نہیں کہ دھماکہ کس نے کیا۔۔۔ امجد، داؤح: بد سے بدنام برا۔ محمد ندیم، یو کے: اس میں پاکستان اور پاکستان کے عوام کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جسٹ پاکستان کو بدنام کیا جارہا ہے، وہی مثال ہوگا، بد اچھا بدنام برا، پاکستان میں سفر کرنے سے کوئی ٹیرورِسٹ نہیں بن جاتا۔ سید رحمان، کینیڈا: مشرف پاکستان کو اپنے باس مسٹر بش نے بچا نہیں سکتے۔ مشرف امریکہ سے صرف وقت چاہتے ہیں، ورنہ سب کو معلوم ہے، مشرف صاحب کو بھی پاکستان افغانستان اور عراق کی طرح امریکہ کا اگلا نشانہ ہے۔ |