شوٹ ٹو کل پالیسی جاری رہے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دیکھتے ہی گولی مار کر ہلاک کرنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گئی اور ہوسکتا ہے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مزید بے گناہ افراد مارے جائیں۔ لندن پولیس کے حکام کی طرف سے یہ بیان برازیل کے ستائیس سالہ ژان چارلز دے مینیزیس کو خودکش حملہ آوور ہونے کے شبہ میں گولی مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ کے بعد جاری کیا گیا۔ لندن پولیس کے سربراہ سر اِئین بلیئر نے کہا کہ برازیل کے بے گناہ شہری کے ہلاک ہونے کے باوجود پولیس شہریوں کی حفاظت کے لیے دیکھتے ہی گولی مار دینے کی پالیسی کو جاری رکھے گی۔ گزشتہ جمعرات کو ناکام دھماکوں کے سلسلے میں پولیس تین افراد سے تفتیش کر رہی ہے۔ سر آئن بلیئر نے برازیل کے بے گناہ باشندے کی ہلاکت پر معافی مانگتے ہوئے اس پولیس والے کا دفاع کیا جس نے مینیزیس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ مینیزیس کو گولی مارنے کے واقعہ کی تفتیش سکاٹ لینڈ یارڈ ڈائریکٹریٹ آف پروفیشنل اسٹینڈرڈ اور انڈیپنڈنٹ پولیس کمپیلینٹس کمیشن کر رہے ہیں۔ برازیل کے وزیر خارجہ سیلو اموریم نے کہا ہے کہ جیک اسٹرا نے اس واقعہ کی مکمل تفتیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
برازیل کے وزیر خارجہ پیر کو جیک اسٹرا سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس ملاقات سے قبل انہوں نے کہا کہ بے گناہ برازیل نوجوان کی زندگی تو واپس نہیں آ سکتی لیکن اس کے ساتھ جو واقعات پیش آئے اس کی مکمل تفصیل تو معلوم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برازیل کے لوگوں اور حکومت کو ایک بے گناہ انسان کو گولی ماردینے کے واقعے سے انتہائی صدمہ ہوا ہے۔ برازیل کے حکام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ستائیس سالہ نوجوان پر خود کش بمبار ہونے کا کیوں شبہ کیا گیا۔ داخلہ امور کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین جان ڈینہم نے کہا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش جلد از جلد مکمل کی جانی چاہیے اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج کو عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||