BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 July, 2005, 06:54 GMT 11:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مطلوب شخص زیمبیا میں ’گرفتار‘
News image
لندن میں سات جولائی کو ہونے والے بم دھماکوں میں مطلوب ہارون رشید اسوت کو افریقی ملک زیمبیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مغربی یارکشائر میں پرورش پانے والے ہارون رشید پر پولیس کو شبہ ہے کہ ان کے خود کش حملہ آوروں سے رابطے تھے اور کم از کم دو حملہ آوروں نے لندن بم حملوں سے پہلے ان کے موبائل فون پر رابطہ کیا تھا۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے ہارون رشید اسوت کی گرفتاری کے بارے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اس موقع پر گرفتاری پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہارون رشید اسوت کو زیمبیا کےسرحدی شہر لیونگسٹن سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ہارون رشید زیمبیا میں زمبابوے سے داخل ہوئے تھے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ لندن بم دھماکوں سے پہلے ہارون رشید لندن میں موجود تھے اور سات جولائی لندن بم حملوں میں ملوث دو لوگوں نے ان سے موبائل فون پر رابطہ کیا تھا۔

امریکہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہارون رشید اسوت کو پچھلے ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔ ہارون رشید پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ 1999 میں اوریگون میں ہونے والے بم حملے میں ملوث تھے۔

دریں اثناء لندن پولیس اکیس جولائی کو ناکام بم حملوں میں ملوث تین لوگوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

جمعرات کو پولیس نے لندن کے جنوبی علاقے ٹوٹنگ سے نو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ نو مردوں کو دو مختلف مقامات سے گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے تین خواتین کو قانون شکن لوگوں کو پناہ دینے کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

پولیس بدھ کو برمنگھم سے گرفتار ہونے کیے جانے والے یاسین حسن عمر سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

چوبیس سالہ یاسین حسن عمر کو برمنگھم میں حراست لیے جانے کے بعد لندن لایا گیا جہاں ان کو سخت حفاظت والے پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے۔

یاسین حسن عمر کا تعلق ان چار مشتبہ بمباروں سے جنہوں نے اکیس جولائی کو لندن میں دھماکے کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔چوبیس سالہ یاسین حسن عمر پندرہ سال پہلے صومالیہ سے برطانیہ آئے تھے۔

66بمباروں کی نئی ویڈیو
پولیس نے مشتبہ بمباروں کی نئی تصاویرجاری کردی
66’بمباروں کی سیر‘
وائٹ واٹر کشتی سیر دائرہ تفتیش میں شامل
66موت سے موت تک
لندن حملوں میں ہلاک ہونیوالے افغان کی کہانی
66مغرب بھی ذمہ دار ہے
’مغربی دوغلاپن لندن دھماکوں کی وجہ ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد