مطلوب شخص زیمبیا میں ’گرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں سات جولائی کو ہونے والے بم دھماکوں میں مطلوب ہارون رشید اسوت کو افریقی ملک زیمبیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مغربی یارکشائر میں پرورش پانے والے ہارون رشید پر پولیس کو شبہ ہے کہ ان کے خود کش حملہ آوروں سے رابطے تھے اور کم از کم دو حملہ آوروں نے لندن بم حملوں سے پہلے ان کے موبائل فون پر رابطہ کیا تھا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے ہارون رشید اسوت کی گرفتاری کے بارے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اس موقع پر گرفتاری پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہارون رشید اسوت کو زیمبیا کےسرحدی شہر لیونگسٹن سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ہارون رشید زیمبیا میں زمبابوے سے داخل ہوئے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ لندن بم دھماکوں سے پہلے ہارون رشید لندن میں موجود تھے اور سات جولائی لندن بم حملوں میں ملوث دو لوگوں نے ان سے موبائل فون پر رابطہ کیا تھا۔ امریکہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہارون رشید اسوت کو پچھلے ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔ ہارون رشید پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ 1999 میں اوریگون میں ہونے والے بم حملے میں ملوث تھے۔ دریں اثناء لندن پولیس اکیس جولائی کو ناکام بم حملوں میں ملوث تین لوگوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ جمعرات کو پولیس نے لندن کے جنوبی علاقے ٹوٹنگ سے نو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ نو مردوں کو دو مختلف مقامات سے گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے تین خواتین کو قانون شکن لوگوں کو پناہ دینے کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔ پولیس بدھ کو برمنگھم سے گرفتار ہونے کیے جانے والے یاسین حسن عمر سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چوبیس سالہ یاسین حسن عمر کو برمنگھم میں حراست لیے جانے کے بعد لندن لایا گیا جہاں ان کو سخت حفاظت والے پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے۔ یاسین حسن عمر کا تعلق ان چار مشتبہ بمباروں سے جنہوں نے اکیس جولائی کو لندن میں دھماکے کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔چوبیس سالہ یاسین حسن عمر پندرہ سال پہلے صومالیہ سے برطانیہ آئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||