برمنگھم: مطلوب عمر یاسین گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برمنگھم میں گرفتار کیے جانے والوں میں سے ایک کو گرفتاری کے بعد لندن کے اس پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا ہے جہاں انتہائی حفاظتی انتظامات ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ سراغ رساں اس سے گزشتہ ہفتے لندن میں ہونے والے ناکام حملوں کے بارے تفتیش کر رہے میں۔ پولیس کا کہنا ہے گرفتار اکیس جولائی کے بم دھماکوں کے لیے مطلوب عمر یاسین حسن ہے۔ اس سے پہلے پولیس نے کہا تھا کہ اسے شک ہے کہ برطانیہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح برمنگھم سے گرفتار کیے جانے والا ایک شخص پچھلے ہفتے لندن پر نا کام حملوں کا ایک مشتبہ بمبار ہو سکتا ہے۔ اسے صبح ساڑھے چار بجے کے قریب حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے اسے برمنگھم کے ہیبرنز روڈ کے علاقے سے گرفتار کیا ۔ برمنگطم گرفتاریوں کے آپریشن کے دوران آتشی اسلحے کا استعمال نہیں کیا گیا تاہم اس مشتبہ شخص کے خلاف ٹیزر گن (سٹن گن) استعمال کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے وقت مشتبہ شخص نے کمر پر ایک رک سیک(بیگ) پہن رکھا تھا۔ اس شخص کو لندن کے انتہائی سکیورٹی والے پولیس سٹیشن پیڈنگٹن گرین میں مزید تفتیش کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اس شخص کے علاوہ برمنگھم سے تین اور افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ علاقے سے ایک مشتبہ پیکٹ ملنے کے بعد علاقے کو بھی احتیاطاً خالی کروا لیا گیا۔ اس چھاپے میں ویسٹ مڈلینڈز پولیس اور میٹرو پولیٹن پولیس کی انسدادِ دہشت گردی کی برانچ کے پولیس آفیسروں نے حصہ لیا۔ لندن میں سینکڑوں پولیس والے اور ایم آئی فائیو کے ایجنٹ چھ دن پہلے لندن ٹیوب ٹرینوں اور ایک بس کو بموں سے اڑانے کی سازش میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ میٹروپولیٹن پولیس کے سربراہ سر این بلیئر نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مفرور افراد خطرناک ہیں اور وہ مزید حملے کر سکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||