مشتبہ حملہ آور: زندگیوں کے خاکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکیس جولائی کو بس اور لندن انڈرگراؤنڈ ٹیوب سٹیشنوں پر بم دھماکوں کے سلسلے میں مشتبہ حملہ آوروں کے بارے میں کچھ حاصل شدہ معلومات درج ذیل ہیں۔ پہلا مشتبہ شخص: ستائیس سالہ مختار سعید ابراہیم جس پر ہیکنی میں چھبیس نمبر کی بس کی ایک سیٹ کے نیچے دھماکہ خیز مواد رکھنےکا الزام ہے۔ وہ انیس سو بیانوے میں مشرقی افریقہ سے ایک پناہ گزین بچہ کےطور پر برطانیہ آیا تھا۔ اس نے شمالی لندن کے علاقے ایج وئیر میں کیننوس ہل سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بارے میں عام خیال تھا کہ وہ ایک پختہ الذہن مسلمان ہے۔ وہ مکمل اسلامی لباس پہنتاتھا۔ پولیس اس کے بارےمیں تحقیق کر رہی ہے کہ آیا وہ شمالی لندن میں فنس بری پارک مسجد میں نماز ادا کرتا تھا جہاں بنیاد پرست امام مسجد ابو حمزہ المسروی تبلیغ کیا کرتے تھے یا شمالی لندن کے علاقے برکسٹن کی مسجد میں کہ جہاں رچرڈ ریڈ باقاعدہ جایا کرتے تھے۔ نومبر دوہزار تین میں اس نے برطانوی شہریت کی درخواست دی اور ستمبر دوہزار چار میں اسے برطانوی پاسپورٹ دے دیا گیا۔ وہ یاسین حسن عمر کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہا کرتا تھا جس پر اکیس جولائی کووارن سٹریٹ کے قریب ٹیوب سٹیشن پر بم حملے کا شبہ ہے۔ دوسرا مشتبہ شخص: چوبیس سالہ یاسین عمر حسن پر اکیس جولائی کووکٹوریا لائن ٹیوب سٹیشن پر بم حملے کا شبہ ہے۔
وہ بارہ سال کی عمر میں پناہ گزین کے طور پر اپنے رشتہ داروں کے ساتھ برطانیہ آیا تھا۔ مئی دوہزار میں اسے برطانیہ میں مستقل سکونت کی اجازت دے دی گئی۔ عمر شمالی لندن کے علاقے میں واقع ساؤتھ گیٹ ٹاور بلاک میں نویں فلور پرایک فلیٹ میں باقاعدہ کرایہ دار کی حیثیت سے رہائش پذیرتھا۔ تیسرا مشتبہ شخص: سٹاک ویل انڈرگراؤنڈ سٹیشن پر اکیس جولائی کو تقریبا بارہ بج کر پچیس پر نظر آنے والےشخص نے شمال کی سمت جانے والے نارتھن لائن ٹرین کا استعمال کیا۔
اس ٹرین کے مسافروں نے بتایا کہ انہوں نے زوردار دھماکے کی آواز سنی اور ڈبے سے دھواں نکلتےہوئےدیکھا۔ اس مشتبہ شخص کا پولیس کے مطابق کچھ بہادر لوگوں نے بھی پیچھا کیا لیکن وہ شخص برکسٹن روڈ سے برکسٹن کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کی تصاویر سکیورٹی کیمروں میں مسافروں کے انکلوژر سے بارہ بج کر چونتیس منٹ پرسٹیشن کو چھوڑنے سے پہلے ٹکٹ کے لیے لگائی گئی رکاوٹوں کو پھلانگتے ہوئےاتاری گئیں۔ چوتھا مشتبہ شخص: یہ شخص گہرے نیلے رنگ کی بیس بال کیپ پہنے ہوئے تھا اور چھوٹا سے ایک بستے کو اپنے کاندھے پر لٹکایا ہوئے مغربی لندن کے ویسٹ باورنی پارک ٹیوب سٹیشن پر بارہ بج کر بیس منٹ پر داخل ہوا۔
اس نے شیپرڈ بش سٹیشن جانے کےلیےٹرین پکڑی اور دو سٹیشنوں کے درمیان تقریبا بارہ بج کر پچیس منٹ پر اس نے بم دھماکے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق اس نے پستول کے چلنے کی سی آواز سنی اور دھویں کےساتھ مسافروں کو ڈبے کے فرش پر لیٹتے ہوئے دیکھا۔ شبہ ہے کہ مشتبہ شخص شیپرڈ بش سٹیشن پرکھڑ کی سے چھلانگ لگا کر ٹرین سے باہر کودا اور ٹریک کے ساتھ چلتے ہوئے باہر نکانے میں کامیاب ہوگیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||