’اشتعال خیر‘ مبلغ فرانس بدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی حکام نے الجزائر کے ایک شہری کو اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں ملک بدر کر دیاہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ الجزائر کے شہری رِدا امورود کو جمعہ کے روز فرانس بدر کیا گیا۔ حکام کے مطابق ملک بدر کیے جانے والا شخص ایک اسلامی شدت پسند تھا اور ان کا تعلق انتہا پسند سلافیسٹ تحریک سے تھا۔ اس سے پہلے فرانسیسی حکام نے ایک اسلامی مبلغ عبدالحامد ایسوئی کو ملک بدر کر کے الجیریا بھیج دیا ہے۔ عبدالحامد ایسوئی 1995 میں ایک ٹرین پر حملہ کرنے کے الزام میں چار برس قید کاٹ چکے ہے۔ عبدالحامد کی فرانس بدری کا فیصلہ 1999 میں ان کی رہائی کے وقت ہوا تھا لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد ہفتے کے دن اس وقت کیا گیا جب مبلغ کی جانب سے دائر کی گئی پناہ کی درخواست رد کر دی گئی۔ فرانس میں گزشتہ سال منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت کسی بھی غیر ملکی کو اشتعال انگیزی اور نفرت یا تشدد پھیلانے کی بنا پر ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ ’اشتعال انگیز‘ مبلغ کو ملک بدر کرنے کا اعلان فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی نے دو ہفتے پہلے ہسپانیہ کے دورے کے دوران کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ فرانس اتنا کمزور نہیں کہ اشتعال انگیز تقاریر کو اس بنا پر قبول کر لے کہ یہ عبادت کی جگہ پر ہو رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||