فرانس: نیاوزیراعظم نامزد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کے ریفرنڈم میں حکومت کی شکست کے بعد وزیر اعظم ریفرن نے استعفیٰ دے دیا ہے اور ان کی جگہ ڈامینک ڈی ولیپاں کو ملک کا نیا وزیراعظم نامزد کر دیا گیا ہے۔ مسٹرولیپاں اس سے پہلے ملک کے وزیرداخلہ بھی رہ چکے ہیں جبکہ عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملہ کے وقت وہ فرانس کے وزیر خارجہ تھے۔ یورپی آئین پر ریفرنڈم میں پچپن فیصد ووٹروں نے مخالفت میں ووٹ ڈالے تھے جس کے بعد صدر ژاک شیراک نے وزارت عظمٰی میں تبدیلی کے علاوہ کابینہ میں تبدیلیوں کا بھی وعدہ کیا ہے۔ ریفرنڈم کے نتائج کے بارے میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج داخلہ امور پر عدم اطمینان کے علاوہ فرانسیسی عوام کی ایک مشترکہ یورپ کے نظریہ کےبارے میں بے چینی کی طرف اشارہ بھی کرتے ہیں۔ تا ہم مستعفی ہونے والے وزیر اعظم مسٹر ریفارن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ان کے استعفے کا ریفرنڈم کے نتائج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے فرانس میں تبدلیاں لانے کے سلسلہ میں اپنی کوششوں کا دفاع کیا لیکن ساتھ ساتھ یہ اعتراف بھی کیا کہ ان کوششوں کو فرانسیسی عوام کی پزیرائی نہیں مل سکی۔ مسٹر ریفارن نے اپنے پیش رو کو تعاون کی پیشکش کی اور کہا کہ نئے وزیراعظم کو یورپی یونین کے منصوبہ کو آگے بڑھانا چاہیے۔ فرانس میں اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم نے ملک کی دائیں اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک صدمے کی سی صورت ِ حال سے دو چار کر دیا ہے۔ صدر ژاک شیراک کے بارے میں ان کے مخالفین یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے بعد ان کے پاس اختیار و اقتدار کا حق باقی نہیں رہا۔ صدر ژاک شیراک منگل کو قوم سے خطاب کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||