فرانس: ریفرنڈم کی مہم کا آخری دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جعمہ کا دن یورپی یونین کے آئین پر اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم کی مہم کا آخری دن ہے جس میں دونوں فریق ووٹروں سے آخری اپیلیں کریں گے۔ سپین اور جرمنی کے رہنما فرانس کی سوشلسٹ پارٹی کی ریلیوں میں شرکت کریں گے ’ہاں‘ میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپیل کریں گے۔ تاہم ممتاز منحرف سوشلسٹ ارکان پیرس میں کمیونسٹوں اور یونین کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر لوگوں کو ’نہ‘ میں ووٹ دینے کی ترغیب دیں گے۔ صدر ژاک شیراک نے جمعرات کو ٹی وی پر فراسیسی عوام سے اپیل کی کہ وہ رائے عامہ کے جائزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس چارٹر کی حمایت میں ووٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ووٹ ’فرانس اور یورپ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔‘ رائے عامہ کے تازہ جائزوں میں ریفرنڈم کے حق میں 46 فیصد اور اس کے خلاف 54 فیصد ووٹ دکھائے ہیں۔ مسٹر شیراک کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ فرانس اور یورپ کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ریفرنڈم کا استعمال حکومت کے خلاف ووٹ کے طور پر نہ کریں۔ انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ ریفرنڈم میں لوگوں سے مشورہ لیا جائے گا کہ آیا ترکی کو یورپی یونین میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم کے خلاف فیصلہ یورپی یونین کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔ جمعہ کو نکالی جانے والی ریلیوں میں جرمنی اور سپین کے رہنما بھی شرکت کریں گے۔ انتہائی دائیں بازو والے قومی محاذ کے حامی بھی جمعہ کو پیرس میں ریلی نکالیں گے جو مجوزہ آئین کے خلاف ہیں۔ جرمنی بھی اپنی پارلیمان کے ایوان بالا میں اس چارٹر کی توثیق کرے گا۔ یوروپی یونین کے اس آئین کو قانون میں تبدیل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام ممبر ملک اس کی توثیق کریں۔ فرانس سے پہلے سپین نے اس بارے میں ریفرنڈم کرایا تھا وہاں کے عوام نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||