لندن حملے، ایک شخص پر فرد جرم عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن پر اکیس جولائی کے نا کام حملوں کے سلسلے میں ایک شخص پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ یہ پہلا شخص ہے جس پر ان حملوں سے متعلق فرد جرم عائد کی گئی ہو۔ جنوب مشرقی لندن کے علاقے کینِنگٹن کے رہائشی تئیس سالہ اسمعیل عبدالرحمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی معملومات خفیہ رکھی تھی جس سے ایک مشتبہ دہشت گرد کی گرفتاری ممکن ہوسکتی۔ خیال ہے کہ اس الزام کا تعلق اکیس جولائی کے مشتبہ بمبار حسین عثمان سے ہے۔ پولیس نے ان حملوں کے بعد حسین عثمان سمیت چار مشتبہ بمباروں کی تصاویر جاری کی تھیں۔ تین کو برطانیہ میں گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن حسین عثمان کچھ روز بعد برطانیہ سے نکل کر پہلے نیدرلینڈز اور پھر اٹلی گئے تھے۔ برطانوی اور اتالوی پولیس کی مشترکہ کوششوں کے بعد ان کو اٹلی میں گرفتار کر لیا گیا اور وہ اب اتالوی پولیس کی حراست میں ہیں۔ اسمعیل عبد الرحمان پر برطانیہ کے دہشت گردی کے قانون کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ ان پر لگائے ہوئے الزام کی تفاصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس کا خیال ہے کہ انہوں نے حسین عثمان کی مدد نہ صرف حملوں سے پہلے بلکہ بعد میں بھی کی تھی۔ اسمعیل عبد الرحمان کو پولیس نے اٹھائیس جولائی کو گرفتار کیا تھا۔ ان کو چار اگست، جمعرات کے روز عدالت (بو سٹریٹ میجِسٹریٹس کورٹ) میں پیش کیا جائے گا۔ جمعرات کو سات جولائی کے حملوں کے بعد سے چار ہفتے اور اکیس جولائی کے حملوں کے بعد سے دو ہفتے ہو جائیں گے۔ یہ دونوں حملے جمعرات کے ہی روز کیے گئے تھے اور اس جمعرات کو شہر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے جانے کے علاوہ پولیس کی بھاری نفری شہر میں تعینات ہوگی۔ لندن پولیس کے سربراہ سر ائین بلئیر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اکیس جولائی کے حملے نا کام تو ہوئے تھے لیکن یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ ان کا مقصد قاتلانا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||